Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 21:90 Prev 21:88


Arabic

وَزَكَرِيَّآ إِذۡ نَادَىٰ رَبَّهُۥ رَبِّ لَا تَذَرۡنِي فَرۡدٗا وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلۡوَٰرِثِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور زکریّاؑ کو، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ “اے پروردگار، مجھے اکیلا نہ چھوڑ، اور بہترین وارث تو تُو ہی ہے


English (Sahih International)

And [mention] Zechariah, when he called to his Lord, “My Lord, do not leave me alone [with no heir], while you are the best of inheritors


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 89 وَزَکَرِیَّآ اِذْ نَادٰی رَبَّہٗ ”اس بارے میں تفصیل سورة مریم میں گزر چکی ہے۔رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّاَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَ ”اے میرے پروردگار ! مجھے کوئی ایسا وارث عطا فرما جو میرے اس مشن کو زندہ رکھ سکے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 89 and 90.

پیغمبر خصوصی انعام یافتہ لوگ ہیں۔ ان کی سب سے بڑی شخصی صفت یہ ہوتی ہے کہ ان کی دوڑ دھوپ دنیا کے لیے نہیں ہوتی۔ بلکہ ان چیزوں کی طرف ہوتی ہے جو آخرت کے اعتبار سے قیمت رکھتی ہوں۔اللہ کی عظمت کو وہ اس طرح پالیتے ہیںکہ وہی ان کو سب کچھ نظر آنے لگتا ہے۔ وہ صرف اسی سے ڈرتے ہیں اور صرف اسی کو پکارتے ہیں۔ وہ ہر حال میں خشوع اور تواضع کی روش پر قائم رہتے ہیں۔

یہ چیزیں حضرت زکریا اور دوسرے نبیوں میں کمال درجہ پر تھیں۔ اور اسی بنا پر اللہ نے ان کو اپنی خصوصی نعمتوں سے نوازا۔ عام اہلِ ایمان بھی جس قدر ان اوصاف کا ثبوت دیں گے، اسی قدر وہ خدا کی نصرت وعنایت کے مستحق قرار پائیں گے۔


Connections

  • Previous: 21_88
  • Next: 21_90
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes