Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 21:86 Prev 21:84


Arabic

وَإِسۡمَٰعِيلَ وَإِدۡرِيسَ وَذَا ٱلۡكِفۡلِۖ كُلّٞ مِّنَ ٱلصَّـٰبِرِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور یہی نعمت اسماعیلؑ اور ادریسؑ اور ذوالکفلؑ کو دی کہ یہ سب صابر لوگ تھے


English (Sahih International)

And [mention] Ishmael and Idrees and Dhul-Kifl; all were of the patient


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 85 and 86.

آیت 85 وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِدْرِیْسَ وَذَا الْکِفْلِطکُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَ ”حضرت ادریس علیہ السلام کا ذکر سورة مریم کی آیت 56 کے ضمن میں بھی آچکا ہے کہ آپ علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام کے بعد اور حضرت نوح علیہ السلام سے پہلے مبعوث ہوئے تھے۔ ان سے قبل حضرت شیث علیہ السلام کی بعثت بھی ہوچکی تھی۔ حضرت ذوالکفل علیہ السلام کے بارے میں کہیں سے کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں کہ آپ علیہ السلام کب اور کس علاقے میں مبعوث ہوئے۔ احادیث میں بھی آپ علیہ السلام کا تذکرہ نہیں ملتا۔ البتہ موجودہ دور کے ایک عالم اور محقق مولانا مناظر احسن گیلانی رح کا خیال ہے کہ ذوالکفل سے مراد گوتم بدھ ہیں اور یہ کہ گوتم بدھ اللہ کے نبی تھے۔ ان کے اس دعویٰ کے بارے میں یقین سے تو کچھ نہیں کہا جاسکتا ‘ لیکن اس سلسلے میں مولانا کے دلائل میں بہرحال بہت وزن ہے۔ گوتم بدھ کے بارے میں تاریخی اعتبار سے ہمیں اس قدر معلومات ملتی ہیں کہ وہ ریاست ”کپل وستو“ کے شہزادے تھے۔ مولانا کے مطابق ”کپل“ ہی دراصل ”کفل“ ہے یعنی ہندی کی ”پ“ عربی کی ”ف“ سے بدل گئی ہے۔ اس طرح ذوالکفل کا مطلب ہے : ”کفل کپل والا“۔ یعنی کپل ریاست کا والی سدھار کا بدھا یا گوتم بدھا۔ آج جو عقائد گوتم بدھ سے منسوب کیے جاتے ہیں ‘ ان میں یقینابہت کچھ تحریف بھی شامل ہوچکی ہوگی۔ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات میں بھی آپ علیہ السلام کے پیروکاروں نے بہت سے من گھڑت عقائد شامل کرلیے ہیں۔ ممکن ہے کہ گوتم بدھ کی اصل تعلیمات الہامی ہی ہوں اور بعد کے زمانے میں ان میں تحریف کردی گئی ہو۔ بہر حال میں سمجھتا ہوں کہ اس ضمن میں مولانا مناظر احسن گیلانی کے دلائل کافی معقول اور ٹھوس ہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 85 and 86.

حضرت اسماعیل حضرت ابراہیم کے صاحب زادے تھے۔ کچھ مفسرین نے حضرت ادریس سے وہ پیغمبر مراد لیا ہے جن کا ذکر بائبل میں حنوک (Enoch) کے نام سے آیا ہے۔ اسی طرح حضرت ذوالکفل سے مراد غالباً وہ نبی ہیں جو بائبل میں حزقی ایل کے نام سے مذکور ہوئے ہیں۔

ان پیغمبروں کی نمایاں صفت صبر بتائی گئی ہے۔ اس کی وجہ يه هے كه صبر تمام خدا پرستانہ اعمال کی بنیاد ہے۔ صبر کا مطلب اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچانا ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے نہ بچائے وہ امتحان کی اس دنیا میں کبھی خداکی پسندیدہ زندگی پر قائم نہیں ہوسکتا۔حقیقت یہ ہے کہ صبر خدا کی تمام رحمتوں کا دروازہ ہے، اس دنیا میں بھی اور موت کے بعد آنے والی دوسری دنیا میں بھی۔


Connections

  • Previous: 21_84
  • Next: 21_86
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes