Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 21:77 Prev 21:75


Arabic

وَنُوحًا إِذۡ نَادَىٰ مِن قَبۡلُ فَٱسۡتَجَبۡنَا لَهُۥ فَنَجَّيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥ مِنَ ٱلۡكَرۡبِ ٱلۡعَظِيمِ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور یہی نعمت ہم نے نوحؑ کو دی یاد کرو جبکہ اِن سب سے پہلے اُس نے ہمیں پکارا تھا ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے اور اس کے گھر والوں کو کرب عظیم سے نجات دی


English (Sahih International)

And [mention] Noah, when he called [to Allah] before [that time], so We responded to him and saved him and his family from the great flood


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 76 and 77.

آیت 76 وَنُوْحًا اِذْ نَادٰی مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ ”یہ اس دعا کی طرف اشارہ ہے جو سورة القمر میں نقل ہوئی ہے : فَدَعَا رَبَّہٗٓ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ کہ پروردگار میں تو مغلوب ہوگیا ہوں ‘ اب تو میری مدد فرما اور تو ہی ان کافروں سے انتقام لے۔ آپ علیہ السلام کی یہ دعا قبول فرمائی گئی اور اس نافرمان قوم کو غرق کردیا گیا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 76 and 77.

حضرت نوح نے انتہائی لمبی مدت تک اپنی قوم کو دعوت دی۔ مگر چند لوگوں کے سوا کسی نے اصلاح قبول نہ کی۔ آخر کار حضرت نوح نے اپنی قوم کی ہلاکت کی دعا کی۔ اس کے بعد ایسا سخت سیلاب آیا کہ پہاڑ کی چوٹیاں بھی لوگوں کو بچانے سے عاجز ہوگئیں۔

یہ واقعہ اگرچہ پیغمبر کی سطح پر پیش آیا۔ تاہم عام انسانوں کے لیے بھی اس میں بہت تسکین کا سامان ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں بگاڑ پیدا کرنے والے بالکل آزاد نہیں ہیں۔ اور سچائی کے لیے اٹھنے والا شخص بالکل اکیلا نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص سچائی سے اس حد تک اپنے آپ کو وابستہ کرے کہ وہ دنیا میں سچائی کا نمائندہ بن جائے تو اس کے بعد وہ دنیا میں اکیلا نہیں رہتا۔ بلکہ خدا اس کے ساتھ ہوجاتا ہے اور جس کے ساتھ خدا ہوجائے اس کو کون زیر کرسکتا ہے۔


Connections

  • Previous: 21_75
  • Next: 21_77
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes