Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 21:72 Prev 21:70


Arabic

وَنَجَّيۡنَٰهُ وَلُوطًا إِلَى ٱلۡأَرۡضِ ٱلَّتِي بَٰرَكۡنَا فِيهَا لِلۡعَٰلَمِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور ہم نے اُسے اور لوطؑ کو بچا کر اُس سرزمین کی طرف لے گئے جس میں ہم نے دنیا والوں کے لیے برکتیں رکھی ہیں


English (Sahih International)

And We delivered him and Lot to the land which We had blessed for the worlds


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 71 وَنَجَّیْنٰہُ وَلُوْطًا اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْہَا لِلْعٰلَمِیْنَ ”حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ وہ علیہ السلام آپ علیہ السلام پر ایمان لے آئے۔ پھر جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عراق سے شام کی طرف ہجرت کی تو حضرت لوط علیہ السلام بھی آپ علیہ السلام کے ساتھ تھے۔ آپ علیہ السلام لوگ عراق کے مشرقی علاقے کے راستے سے ہوتے ہوئے شام پہنچے۔ درمیان میں چونکہ شرق اردن وغیرہ کا علاقہ ناقابل عبور صحرا پر مشتمل تھا اس لیے شام کے شمالی علاقے سے ہوتے ہوئے اور پھر نیچے کی طرف سفر کرتے ہوئے فلسطین پہنچے اور وہاں مستقل طور پر سکونت اختیار کی۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

یہ مقابلہ محض دو قسم کے آدمیوں کے کرتب کا مقابلہ نہ تھا بلکہ وہ توحید اور شرک کا مقابلہ تھا۔ یعنی اس کے ذریعہ سے یہ فیصلہ ہونا تھا کہ صداقت شرک کی طرف ہے یا توحید کی طرف۔ چوں کہ فرعون کی بڑائی کی بنیاد تمام تر شرک کے اوپر قائم تھی اس ليے وہ شرک کی شکست کو برداشت نہ کرسکا اور جادوگروںکے ليے اس سخت ترین سزا کا حکم سنا دیا جو مصرمیں قدیم زمانہ میں رائج تھی۔

فرعون جب دلیل کے میدان میں ہار گیاتو اس نے یہ کوشش کی کہ طاقت کے ذریعہ حق کو دبا دے۔ یہ ہر زمانہ میں ارباب اقتدار کی عام نفسیات رہی ہے، خواہ وہ شاہانہ اختیار رکھنے والے اربابِ اقتدار ہوں یا غیر شاہانہ اختیار رکھنے والے۔


Connections

  • Previous: 21_70
  • Next: 21_72
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes