Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَمَآ أَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ إِلَّا رِجَالٗا نُّوحِيٓ إِلَيۡهِمۡۖ فَسۡـَٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور اے محمدؐ، تم سے پہلے بھی ہم نے انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی کیا کرتے تھے تم لوگ اگر علم نہیں رکھتے تو اہلِ کتاب سے پوچھ لو
English (Sahih International)
And We sent not before you, [O Muhammad], except men to whom We revealed [the message], so ask the people of the message if you do not know
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 7 وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ الاَّ رِجَالاً نُّوْحِیْٓ اِلَیْہِمْ فَسْءَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ”آیت کے پہلے حصے میں خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے ‘ مگر بعد میں خطاب کا رخ ان لوگوں کی طرف ہوگیا ہے جو کہتے تھے کہ یہ تو ہماری طرح کے انسان ہیں ‘ ہم ان کی بات کیسے مان لیں ؟ ان لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ یہ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں۔ آپ ﷺ سے پہلے بھی بہت سے رسول آئے ‘ وہ سب بھی انسان ہی تھے۔ وہ انسانوں ہی کی طرح پیدا ہوئے سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ وہ انسانوں ہی کی طرح کھاتے پیتے اور دوسری ضروریات زندگی پوری کرتے تھے۔ یہ بات اگر تمہاری سمجھ سے بالا تر ہے تو تمہارے ارد گرد اہل کتاب یعنی یہود اور نصاریٰ موجود ہیں۔ تم لوگ ان سے پوچھ لو کہ پہلے رسول انسان تھے یا وہ کسی مافوق الفطرت مخلوق سے تعلق رکھتے تھے ؟
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 7 to 9.
جو لوگ یہ کہہ کہ پیغمبر کا انکار کرتے تھے کہ یہ تو ہماری طرح کے ایک انسان ہیں، ان سے کہاگیا کہ اگر تم اپنے اس اعتراض میں سنجیدہ ہو تو تمھارے لیے معاملہ کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں۔ بہت سی گزری ہوئی ہستیاں جن کو تم پیغمبر تسلیم کرتے ہو، ان کے جاننے والے موجود ہیں۔ پھر ان جاننے والوں سے تحقیق کر لو کہ وہ انسان تھے یا غیر انسان اگر وہ انسان تھے تو موجودہ پیغمبر کو تم صرف اس بنا پر کیسے رد کرسکتے ہو کہ وہ ایک ماں باپ کے ذریعہ عام انسان کی طرح پیدا ہوئے ہیں۔
گزشتہ پیغمبروں کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ان کا اقرار یا انکار لوگوں کے لیے محض سادہ قسم کا اقرار یا انکار نہ تھا۔ اس نے دونوں گروہوں کے لیے واضح طورپر الگ الگ نتیجہ پیدا کیا۔ اقرار کرنے والوں نے نجات پائی اور انکار کرنے والے ہلاک کردئے گئے۔ اس لیے اس معاملہ میں تم کو حد درجہ سنجیدہ ہونا چاہیے۔