Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 21:60 Prev 21:58


Arabic

قَالُواْ مَن فَعَلَ هَٰذَا بِـَٔالِهَتِنَآ إِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

(اُنہوں نے آ کر بتوں کا یہ حال دیکھا تو) کہنے لگے “ہمارے خداؤں کا یہ حال کس نے کر دیا؟ بڑا ہی کوئی ظالم تھا وہ


English (Sahih International)

They said, “Who has done this to our gods? Indeed, he is of the wrongdoers


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 59 قَالُوْا مَنْ فَعَلَ ہٰذَا بِاٰلِہَتِنَآ اِنَّہٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ ”ذراتصور کریں ‘ آج اگر بنارس یا متھرا بھارت میں ایسا کوئی واقعہ رونما ہوجائے تو کیسی قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ ایسے ہی اس واقعہ سے شہر ار پر گویا قیامت ٹوٹ پڑی۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 59 to 63.

اگلے دن جب لوگ بت خانہ میں گئے اور دیکھا کہ وہاں کے بت ٹوٹے پڑے ہیں تو ان کو سخت دھکا لگا۔ بالآخر ان کی سمجھ میں آیا کہ یہ اس نوجوان کا قصہ معلوم ہوتاہے جو ہمارے آبائی دین سے منحرف ہے اور اس کے خلاف بولتا رہتا ہے۔

حضرت ابراہیم نے بتوں کو توڑتے ہوئے بالقصد سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا تھا۔ اب جب وہ بلائے گئے اور ان سے باز پرس ہوئی تو انھوں نے کہا کہ یہ بڑا بت صحیح وسالم موجود ہے۔ اس سے پوچھ لو۔ اگر وہ واقعی معبود ہے تو بول کر تمھیں بتائے گا کہ یہ قصہ ان بتوں کے ساتھ کیسے پیش آیا۔

حضرت ابراہیم نے براہِ راست طور پر کوئی بات نہیں کہی۔ مگر بالواسطہ طورپر انھوں نے وہ بات کہہ دی جو اس موقع پر براہِ راست کلام سے بھی زیادہ مؤثر تھی۔


Connections

  • Previous: 21_58
  • Next: 21_60
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes