Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قَالُوٓاْ أَجِئۡتَنَا بِٱلۡحَقِّ أَمۡ أَنتَ مِنَ ٱللَّـٰعِبِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
انہوں نے کہا “کیا تو ہمارے سامنے اپنے اصلی خیالات پیش کر رہا ہے یا مذاق کرتا ہے؟
English (Sahih International)
They said, “Have you come to us with truth, or are you of those who jest
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 55 قَالُوْٓا اَجِءْتَنَا بالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ ”یعنی کیا آپ علیہ السلام اس بات میں واقعی سنجیدہ ہیں اور آپ علیہ السلام کا یہ دعویٰ ٹھوس علمی حقائق پر مبنی ہے یا ویسے ہی تفریح طبع کے لیے باتیں بنا رہے ہیں ؟
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 55 to 58.
حضرت ابراہیم کے زمانے میں مشرکانہ تخیلات لوگوں کے ذہنوں پر اتنا زیادہ چھائے ہوئے تھے کہ ابتداء ً وہ حضرت ابراہیم کی تنقید کو غیر سنجیدہ بات سمجھے۔ انھوں نے کہا کہ تم کوئی سوچی سمجھی بات کہہ رہے ہو یا محض تفریح کے طورپر کچھ الفاظ اپنی زبان سے نکال رہے ہو۔
حضرت ابراہیم نے کہا کہ یہ تمھاری مزید ناسمجھی ہے کہ تم اس اہم ترین بات کو غیر سنجیدہ بات سمجھ رہے ہو۔ حالاں کہ تمام زمین و آسمان اس کے حق میں گواہی دے رہے ہیں۔ اگلے دن انھوں نے مزید یہ کیا کہ غیر معمولی جرأت سے کام لے کر ان کے بتوں کو توڑ ڈالا۔ اس طرح گویا حضرت ابراہیم نے عملاً دکھادیا کہ یہ بت فی الواقع بھی اتنے ہی بے حقیقت ہیں جتنا میں نے لفظی طورپر تمھیں بتایا تھا۔