Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 21:35 Prev 21:33


Arabic

وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٖ مِّن قَبۡلِكَ ٱلۡخُلۡدَۖ أَفَإِيْن مِّتَّ فَهُمُ ٱلۡخَٰلِدُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور اے محمدؐ، ہمیشگی تو ہم نے تم سے پہلے بھی کسی انسان کے لیے نہیں رکھی ہے اگر تم مر گئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ جیتے رہیں گے؟


English (Sahih International)

And We did not grant to any man before you eternity [on earth]; so if you die - would they be eternal


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

اَفَاْءِنْ مِّتَّ فَہُمُ الْخٰلِدُوْنَ ”آپ ﷺ کے یہ مخالفین ابوجہل ‘ ابولہب وغیرہ ہمیشہ کی زندگیاں لے کر تو نہیں آئے۔ ان سب کو ایک دن مرنا ہے اور ہمارے سامنے پیش ہونا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 34 and 35.

مکہ میں جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف تھے وہ وسائل کے اعتبار سے آپ سے بہت بڑھے ہوئے تھے۔ ان کو اس وقت کے ماحول میں عزت اور برتری حاصل تھی۔ اس فرق کا مطلب ان کے نزدیک یہ تھا کہ وہ حق پر ہیں اور محمدؐ ناحق پر۔ مگر دنیوی چیزوں کی زیادتی اور کمی حق اور ناحق کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ صرف امتحان کے لیے ہوتی ہے۔ یہ خدا کی طرف سے بطور آزمائش ہے۔ دنیوی سامان پاکر اگر کوئی شخص اپنے کو بڑا سمجھنے لگے تو گویا وہ اپنے کو ان چیزوں کا نااہل ثابت کررہا ہے۔ اس کا نتیجہ صرف یہ ہے کہ موت کے بعد کی زندگی میں اس کو ہمیشہ کے لیے محروم کردیا جائے۔

مکہ کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناکام کرنے کے لیے ہر قسم کی مخالفانہ کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔ حتی کہ وہ چاہتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح آپ کا خاتمہ کردیں تاکہ یہ مشن اپنی جڑ سے محروم ہو کر ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے۔ فرمایا کہ پیغمبر کے خلاف اس قسم کی سازشیں کرنے والے لوگ اس حقیقت کو بھول گئے ہیں کہ جس قبر میں وہ دوسرے کو داخل کرنا چاہتے ہیں اسی قبر میں بالآخر انھیں خود بھی داخل ہونا ہے۔ پھر موت کے بعد جب ان کا سامنا مالک حقیقی سے ہوگا تو وہاں وہ کیا کریں گے۔


Connections

  • Previous: 21_33
  • Next: 21_35
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes