Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
أَوَلَمۡ يَرَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَنَّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقٗا فَفَتَقۡنَٰهُمَاۖ وَجَعَلۡنَا مِنَ ٱلۡمَآءِ كُلَّ شَيۡءٍ حَيٍّۚ أَفَلَا يُؤۡمِنُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
کیا وہ لوگ جنہوں نے (نبیؐ کی بات ماننے سے) انکار کر دیا ہے غور نہیں کرتے کہ یہ سب آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے اِنہیں جدا کیا، اور پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی کیا وہ (ہماری اس خلّاقی کو) نہیں مانتے؟
English (Sahih International)
Have those who disbelieved not considered that the heavens and the earth were a joined entity, and We separated them and made from water every living thing? Then will they not believe
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 30 اَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰہُمَا ط ”یعنی شدید گرمی اور حبس کی صورت حال جس میں لوگوں کی جان پر بنی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کیفیت میں بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ آسمان کے دروازے بھی بند ہیں ‘ زمین کے سوتے بھی خشک ہیں ‘ بارش کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ‘ ہر طرف خشک سالی کا راج ہے اور پھر یکا یک اللہ کی رحمت سے یہ صورت حال تبدیل ہوجاتی ہے۔ آسمان کے دہانے کھل جاتے ہیں اور بارش کے پانی سے زمین پر نباتاتی اور حیواناتی زندگی کی چہل پہل شروع ہوجاتی ہے۔اس کے علاوہ اس آیت میں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ Big Bang کے بعد مادے کا جو ایک بہت بڑا گولا وجود میں آیا تو وہ ایک یکجا وجود Homogenous mass کی صورت میں تھا۔ پھر مادے کے اس گولے میں تقسیم ہوئی ‘ مختلف ستاروں اور سیاروں کے گچھے بنے ‘ کہکشائیں Galaxies وجود میں آئیں ‘ سورج اور اس کے سیاروں کی تخلیق ہوئی ‘ اور یوں ہماری زمین بھی پیدا ہوئی۔ گویا اس سارے تخلیقی عمل کا اظہار اس ایک فقرے میں ہوگیا کہ آسمان اور زمین بند تھے ‘ یعنی باہم ملے ہوئے تھے اور ہم نے انہیں کھول دیا ‘ جدا کردیا۔وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ ط ”یہاں پر خَلَقْنَا کے بجائے جَعَلْنَا فرمایا۔ زمین کے اوپر زندگی جس کسی شکل میں بھی ہے ‘ چاہے وہ نباتاتی حیات ہو یا حیوانی ‘ ہر جاندار چیز کا مادۂ تخلیق مٹی اور مبدأ حیات پانی ہے۔ مٹی تُراب اور پانی مل کر گارا طِین بنا۔ پھر یہ طینٍ لَّازب میں تبدیل ہوا۔ پھر اس نے حماأ مسنون کی شکل اختیار کی۔ اس کے بعد صلصالٍ مّنْ حَمَاأ مسنونکا مرحلہ آیا۔ پھر صلصا لٍ کا لفخّار بنا۔ اس سلسلے میں سورة الحجر ‘ آیت 26 کی تشریح بھی مد نظر رہے۔ گویا مٹی سے ہر جاندار چیز کی تخلیق ہوئی اور ان سب کی زندگی کا دارومدار پانی پر رکھا گیا۔ چناچہ ہر جاندار کے لیے مبدأ حیات پانی ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
رتق کے معنی کسی چیز کا منھ بند (منضم الاجزاء) ہونا ہے اور فتق کا مطلب اس کا کھل جانا ہے۔غالباً اس سے زمین وآسمان کی وہ ابتدائی حالت مراد ہے جس کو موجودہ زمانہ میں بِگ بینگ نظریہ کہاجاتا ہے۔ جدید سائنسی تحقیق کے مطابق زمین وآسمان کا تمام مادہ ابتداء ً ایک بہت بڑے گولے (سپر ایٹم) کی صورت میں تھا۔ معلوم طبیعیاتی قوانین کے مطابق اس وقت اس کے تمام اجزاء اپنی اندرونی مرکز کی طرف کھنچ رہے تھے اور انتہائی شدت کے ساتھ باہم جڑے ہوئے تھے۔ اس کے بعد اس گولے کے اندر ایک دھماکہ ہوا اور اس کے اجزاء اچانک بیرونی سمت میں پھیلنا شروع ہوئے۔ اس طرح بالآخر وہ وسیع کائنات بنی جو آج ہمارے سامنے موجود ہے۔
ابتدائی مادی گولے (سپر ایٹم) میں یہ غیر معمولی واقعہ بیرونی مداخلت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اس طرح آغازِ کائنات کی یہ تاریخ واضح طورپر ایک ایسی ہستی کو ثابت کرتی ہے جو کائنات کے باہر اپنا مستقل وجود رکھتی ہے اور جو اپنی ذاتی قوت سے کائنات کے اوپر اثر انداز ہوتی ہے۔
ہماری دنیا میں ہر جاندار چیز سب سے زیادہ جس چیز سے مرکب ہوتی ہے وہ پانی ہے۔ پانی نہ ہو تو زندگی کا خاتمہ ہوجائے۔ یہ پانی ہماری زمین کے سوا کہیں اور موجود نہیں۔ وسیع کائنات میں استثنائی طورپر صرف ایک مقام پر پانی کا پایا جانا واضح طورپر ’’خصوصی تخلیق‘‘ کا پتہ دیتا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ ایسی کھلی کھلی نشانیوں کے بعد بھی آدمی خدا کو نہیں پاتا۔ اس کے باوجود وہ بدستور محروم پڑا رہتا ہے۔