Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 21:27 Prev 21:25


Arabic

وَقَالُواْ ٱتَّخَذَ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَلَدٗاۗ سُبۡحَٰنَهُۥۚ بَلۡ عِبَادٞ مُّكۡرَمُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یہ کہتے ہیں “رحمان اولاد رکھتا ہے” سبحان اللہ، وہ تو بندے ہیں جنہیں عزّت دی گئی ہے


English (Sahih International)

And they say, “The Most Merciful has taken a son.” Exalted is He! Rather, they are [but] honored servants


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 26 وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗط بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ ”جس کسی کو بھی یہ لوگ اللہ کی اولاد قرار دیتے ہیں ‘ وہ فرشتے ہوں ‘ انبیاء ہوں یا اولیاء اللہ ‘ سب اس کے مقرب بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے بندوں کی حیثیت سے اپنے ہاں با عزت مقام عطا کیا ہے : اَنَّ لَہُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّہِمْط یونس : 2 ”یقیناً ان کے لیے ہے سچائی کا مرتبہ ان کے رب کے پاس۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 26 to 29.

ایک چیز کو حق اور دوسری چیز کو باطل سمجھنا آدمی سے اس کی آزادی چھین لیتا ہے۔ اس لیے انسان ہمیشہ اس کوشش میں رہا ہے کہ وہ ایسا نظریہ دریافت کرے جس سے حق وباطل کا فرق مٹ جائے۔ جس سے اس کو یہ اطمینان حاصل ہو کہ وہ دنیا میں خواہ جس طرح بھی رہے اس سے یہ پوچھ نہیں ہونے والی ہے کہ تم نے ایسا کیوں کیا اور ویسا کیوں نہیں کیا۔ غیر مذہبی لوگوں نے یہ تسکین انکارِ آخرت کے ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور مذہبی لوگوں نے مشرکانہ عقیدہ کے ذریعہ۔

فرشتے ایک غیبی مخلوق ہیں۔ پیغمبروں کے ذریعہ انسان کو فرشتوں کی موجودگی کی خبر دی گئی تاکہ وہ خدا کی قدرت کا احساس کرے۔ مگر اس نے فرشتوں کو خدا کی بیٹی بنا کر عجیب وغریب طور پر یہ عقیدہ گھڑ لیا کہ وہ فرشتوں کے نام پر کچھ عبادتی رسوم ادا کرتا رہے، اور وہ آخرت میں اپنے باپ سے سفارش کرکے اس کی بخشش کرادیںگے۔

اس قسم کے تمام عقیدے خدا کی خدائی کی نفی ہیں۔ خدا اسی ليے خدا ہے کہ وہ ایسی تمام کمیوں سے پاک ہے۔ اگر وہ ان کمیوں میں مبتلا ہوتا تو وہ خدا نہ ہوتا۔


Connections

  • Previous: 21_25
  • Next: 21_27
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes