Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 20:84 Prev 20:82


Arabic

۞وَمَآ أَعۡجَلَكَ عَن قَوۡمِكَ يَٰمُوسَىٰ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور کیا چیز تمہیں اپنی قوم سے پہلے لے آئی موسیٰؑ؟


English (Sahih International)

[Allah] said, “And what made you hasten from your people, O Moses


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 83 وَمَآ اَعْجَلَکَ عَنْ قَوْمِکَ یٰمُوْسٰی ”اس سے پہلے سورة مریم کی آیت 64 اور آیت 84 میں عجلت سے منع کیا جا چکا ہے۔ آیت 64 میں حضور ﷺ کو بالواسطہ انداز میں فرمایا گیا کہ آپ ﷺ وحی کے جلد آنے کے بارے میں خواہش نہ کیا کریں ‘ کیونکہ یہ تو اللہ کی مشیت کے مطابق ہی نازل ہوگی۔ چناچہ فرشتے کی زبان سے آپ ﷺ کو مخاطب کر کے کہلوایا گیا : وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ ج کہ ہم تو آپ ﷺ کے رب کے حکم سے ہی نازل ہوتے ہیں۔ جبکہ آیت 84 میں آپ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا : فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْہِمْ ط ”تو آپ ﷺ ان پر عذاب کے بارے میں جلدی نہ کریں“۔ اب آیت زیر نظر میں جلدی کرنے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جواب طلبی ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تورات دینے کے لیے ایک معین وقت پر کوہ طور پر بلایا تو آپ علیہ السلام فرط اشتیاق سے قبل از وقت وہاں پہنچ گئے۔ اس پر آپ علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ آپ علیہ السلام اپنی قوم کو پیچھے چھوڑ کر وقت سے پہلے یہاں کیوں آگئے ہیں ؟


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 83 to 85.

مصرسے نکلنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے لیے ایک تاریخ مقرر کی کہ اس روز وہ کوہِ طور کے اسی دامن میں دوبارہ آئیں جہاں انھیں ابتداء ً پیغمبری ملی تھی۔ یہاں حضرت موسیٰ کو تورات لینے کے ليے اپنی پوری قوم کے ساتھ پہنچنا تھا۔ مگر فرط شوق میں وہ تیزی سے روانہ ہو کر مقررہ تاریخ سے کچھ دن پہلے مقام موعود پر آگئے۔ اور قوم کو پیچھے چھوڑ دیا۔ قوم سے حضرت موسیٰ کی علیحدگی قوم کے ليے فتنہ بن گئی۔قوم میں بعض مشرکانہ ذہنیت کے لوگ تھے۔ سامری ان کا لیڈر تھا۔ ان لوگوں نے حضرت موسیٰ کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھا کر قوم کو بہکایا اور اس کو بچھڑے کی پرستش میں مبتلا کردیا جیسا کہ مصر میں اس زمانہ میں ہوتا تھا۔


Connections

  • Previous: 20_82
  • Next: 20_84
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes