Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 20:8 Prev 20:6


Arabic

وَإِن تَجۡهَرۡ بِٱلۡقَوۡلِ فَإِنَّهُۥ يَعۡلَمُ ٱلسِّرَّ وَأَخۡفَى


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

تم چاہے اپنی بات پکار کر کہو، وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے مخفی تر بات بھی جانتا ہے


English (Sahih International)

And if you speak aloud - then indeed, He knows the secret and what is [even] more hidden


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 7 وَاِنْ تَجْہَرْ بالْقَوْلِ ”اللہ کو پکارتے ہوئے ‘ اس سے دعایا مناجات کرتے ہوئے اگر تم لوگ اپنی آوازوں کو بلند کرو یا آہستہ رکھو ‘ اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا :


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 7 and 8.

دنیا میں ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کا مذہب دنیا سے فائده حاصل كرنا ہوتا ہے۔دوسری طرف بے آمیز حق کا داعی ہے جس کا مذہب خدا كي قربت پر قائم ہوتا ہے۔پہلا گروہ اپنے ماحول میں ہر طرف اپنے ساتھی اور مددگار پالیتا ہے۔ اس کو کبھی تنہاہونے کا احساس نہیںہوتا۔ اس کے برعکس، حق کا داعی جس معبود کے اوپر کھڑا ہوا ہے وہ آنکھوں سے اوجھل ہوتا ہے۔ حالات کے طوفان میں بار بار اس کا دل تڑپ اٹھتا ہے ۔ وہ کبھی اپنے دل میں خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور کبھی اس کی زبان سے بآوازبلند دعا کے کلمات نکل جاتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس بھری ہوئی دنیا میں وہ اکیلا ہے۔ کوئی اس کا ساتھی اور مدد گار نہیں۔

مگر یہ صرف ظاہری حالت ہے۔ حقیقت کے اعتبارسے حق کا داعی سب سے زیادہ مضبوط سہارے پر کھڑاہوتا ہے۔ وہ ایسے خداکو پکار رہا ہے جو تنہائی کے الفاظ اور دل کی سرگوشیوں تک سے باخبر ہے۔ وہ اس خدا کو اپنا سہارا بنائے ہوئے ہے جو ان تمام قابلِ قیاس اور ناقابلِ قیاس قوتوں کا مالک ہے جو کسی کی مدد کے لیے درکار ہیں۔


Connections

  • Previous: 20_6
  • Next: 20_8
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes