Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 20:60 Prev 20:58


Arabic

قَالَ مَوۡعِدُكُمۡ يَوۡمُ ٱلزِّينَةِ وَأَن يُحۡشَرَ ٱلنَّاسُ ضُحٗى


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

موسیٰؑ نے کہا “جشن کا دن طے ہوا، ا ور دن چڑھے لوگ جمع ہوں


English (Sahih International)

[Moses] said, “Your appointment is on the day of the festival when the people assemble at mid-morning


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 59 قَالَ مَوْعِدُکُمْ یَوْمُ الزِّیْنَۃِ ”ان کے ہاں یہ کوئی تہوار تھا جس کے سلسلے میں وہ لوگ بڑی تعداد میں کسی میدان میں جمع ہو کر جشن مناتے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حکمت سے کام لیتے ہوئے اسی تہوار کے اجتماع کو مقابلے کے لیے مخصوص کرلیا۔وَاَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًی ”یہ ضحی کا وقت وہی ہے جس وقت ہم عیدین کے موقع پر نماز ادا کرتے ہیں۔ یعنی جب دھوپ ذرا سی اٹھ جائے اس وقت لوگوں کو جمع کرلیا جائے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 59 to 61.

فرعون نے سارے ملک میں آدمی بھیج کر تمام ماہر جادوگروں کو بلایا۔ جب یہ لوگ میلے کے میدان میں جمع ہوئے تو مقابلہ پیش آنے سے پہلے حضرت موسیٰ نے ایک تقریر کی۔ یہ تقریر لوگوں کے لیے بالکل نئی چیز نہ تھی، بلکہ یہ ایک قسم کی یاد دہانی تھی۔ اس سے پہلے حضرت موسیٰ کی دعوت کے ذریعہ جادوگر اور دوسرے حضرات یقیناً اس بات سے آگاہ ہوچکے تھے کہ موسیٰ کا پیغام کیا ہے۔ وہ جانتے تھے کہ موسیٰ شرک کے مقابلے میں توحید کی دعوت لے کر کھڑے ہوئے ہیں۔

اس پس منظر میں حضرت موسیٰ نے اتمام حجت کے طورپر آخری نصیحت کی۔ حضرت موسیٰ نے فرعون اور جادوگروں سے کہا کہ اس معاملہ کو تم لوگ جادو کا معاملہ نہ سمجھو۔ خدا کی نشانی کو جادو کہنا اور انسانی جادو کے ذریعہ اس کو زیر کرنے کی کوشش کرنا بے حد سنگین بات ہے۔ یہ ایک واقعی حقیقت کا مقابلہ ایک سراسر بے حقیقت چیز کے ذریعہ کرنا ہے جس کا یقینی نتیجہ ہلاکت ہے۔ تم بظاہر مجھ کو جھوٹا ثابت کرنا چاہتے ہو مگر یہ خود خدا کو نعوذ باللہ جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ جو لوگ اس قسم کی سرکشی کریں وہ خدا کی دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔


Connections

  • Previous: 20_58
  • Next: 20_60
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes