Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 20:26 Prev 20:24


Arabic

قَالَ رَبِّ ٱشۡرَحۡ لِي صَدۡرِي


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

موسیٰؑ نے عرض کیا ” پروردگار، میرا سینہ کھول دے


English (Sahih International)

[Moses] said, “My Lord, expand for me my breast [with assurance]


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 25 to 27.

آیت 25 قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ”یہ بہت اہم دعا ہے اور یہ ہر اس شخص کو یاد ہونی چاہیے جو دین کی دعوت کا مشن لے کر نکلا ہو۔ چناچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار ! تو نے جو عظیم الشان مشن میرے حوالے کیا ہے اس کے لیے اپنی خصوصی مدد میرے شامل حال کر دے اور اس کام کے لیے میرے سینے کو کھول دے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 25 to 36.

پیغمبری ملنے کے بعد ایک صورت یہ تھی کہ حضرت موسیٰ کے اندراحساس فخر پیداہو۔ مگراس وقت انھوںنے جو کچھ اللہ سے مانگا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوںنے پیغمبری کو فخر کی چیزنہیں سمجھا بلکہ ذمہ داری کی چیز سمجھا۔ اس وقت انھوںنے جو الفاظ کہے وہ سب وہ ہیں جو دعوت کی نازک ذمہ داری کا احساس کرنے والے کی زبان سے نکلتے ہیں۔

داعی کے لیے سینہ کا کھلنا یہ ہے کہ حسب موقع اس کے اندر مؤثر مضامین کاورود ہو۔ معاملہ کا آسان ہونا یہ ہے کہ مخالفین کبھی دعوت کی راہ بند کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ زبان کی گرہ کھلنا یہ ہے کہ بڑے سے بڑے مجمع ميں بلاجھجھک دعوت پیش کرنے کا ملکہ پیدا ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو پیغمبرانہ ذمہ داری ادا کرنے کے لیے یہ سب کچھ دیا۔ اسی کے ساتھ ان کی درخواست کے مطابق ان کے بھائی کو ان کے لیے ایک طاقت ور معاون بنادیا۔

نصرت کا یہ خصوصی معاملہ جو پیغمبر کے ساتھ کیا گیا یہی غیر پیغمبر داعی کے لیے بھی ہوسکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ دعوت کے کام سے اپنے آپ کو اس طرح کامل طور پر وابستہ کرے جس طرح پیغمبر نے اپنے آپ کو کامل طور پر وابستہ کیا تھا۔

’’تسبیح اور ذکر‘‘ ہی دین کا اصل مقصود ہے۔ مگر تسبیح اور ذکر سے مراد زبان سے کچھ مخصوص الفاظ کی تکرار نہیں ہے۔ اس سے مراد وہ کیفیت ہے جو حق کی یافت کے بعد بالکل قدرتی طورپر پیدا ہوتی ہے۔ اس وقت انسان کا وجود اللہ کے صفاتِ کمال کا اس طرح تجربہ کرتاہے کہ وہ اس میں نہا اٹھتا ہے۔ وہ خدائی احساس سے اس طرح سرشار ہوتاہے کہ وہ اس کا مبلغ بن جاتا ہے۔


Connections

  • Previous: 20_24
  • Next: 20_26
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes