Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 2:98 Prev 2:96


Arabic

قُلۡ مَن كَانَ عَدُوّٗا لِّـجِبۡرِيلَ فَإِنَّهُۥ نَزَّلَهُۥ عَلَىٰ قَلۡبِكَ بِإِذۡنِ ٱللَّهِ مُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَهُدٗى وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُؤۡمِنِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اِن سے کہو کہ جو کوئی جبریل سے عداوت رکھتا ہو، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ جبریل نے اللہ کے اِذن سے یہ قرآن تمہارے قلب پر نازل کیا ہے، جو پہلے آئی ہوئی کتابوں کی تصدیق و تائید کرتا ہے اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور کامیابی کی بشارت بن کر آیا ہے


English (Sahih International)

Say, “Whoever is an enemy to Gabriel - it is [none but] he who has brought the Qur’an down upon your heart, [O Muhammad], by permission of Allah, confirming that which was before it and as guidance and good tidings for the believers


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 97 and 98.

جیسا کہ قبل ازیں عرض کیا جا چکا ہے ‘ ٌ محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت یہود کے لیے بہت بڑی آزمائش ثابت ہوئی۔ ان کا خیال تھا کہ آخری نبوت کا وقت قریب ہے اور یہ نبی بھی حسب سابق بنی اسرائیل میں سے مبعوث ہوگا۔ لیکن نبی آخر الزمان ﷺ کی بعثت بنی اسماعیل میں سے ہوگئی۔ یہود جس احساس برتری کا شکار تھے اس کی رو سے وہ بنی اسماعیل کو حقیر سمجھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اُمّی لوگ ہیں ‘ اَن پڑھ ہیں ‘ ان کے پاس نہ کوئی کتاب ہے نہ شریعت ہے اور نہ کوئی قانون اور ضابطہ ہے ‘ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک شخص کو کیسے چن لیا ؟ ان کا خیال تھا کہ یہ سب جبرائیل کی شرارت ہے کہ وہ وحی لے کر محمد عربی ﷺ کے پاس چلا گیا۔ لہٰذا وہ حضرت جبرائیل کو اپنا دشمن تصور کرتے تھے اور انہیں گالیاں دیتے تھے۔ یہ بات شاید آپ کو بڑی عجیب لگے کہ اہل تشیع میں سے فرقہ غرابیہ کا عقیدہ بھی کچھ اسی طرح کا تھا۔ حضرتّ مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رح نے اپنے مکاتیب میں اس فرقے کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ اور حضرت علی رض دونوں کی ارواح ایک دوسرے کے بالکل ایسے مشابہ تھیں جیسے ایک غرابّ کو ا دوسرے غراب کے مشابہ ہوتا ہے۔ چناچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام دھوکہ کھا گئے۔ اللہ نے تو وحی بھیجی تھی حضرت علی رض کے پاس ‘ لیکن وہ لے گئے حضرت محمد ﷺ کے پاس۔ یہود کے ہاں یہ عقیدہ موجود تھا کہ اللہ نے تو جبرائیل علیہ السلام کو بنی اسرائیل میں سے کسی کے پاس بھیجا تھا ‘ لیکن وہ محمد ﷺ کے پاس چلے گئے ‘ اور یہی مفروضہ ان کی حضرت جبرائیل علیہ السلام سے دشمنی کی بنیاد تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : لَیَاْتِیَنَّ عَلٰی اُمَّتِیْ مَا اَتٰی عَلٰی بَنِیْ اِسْرَاءِ یْلَ حَذْوَ النَّعْلِ بالنَّعْلِ 12 میری امت پر بھی وہ تمام احوال لازماً وارد ہو کر رہیں گے جو بنی اسرائیل پر وارد ہوئے تھے ‘ جیسے ایک جوتا دوسرے جوتے کے مشابہ ہوتا ہے۔ چناچہ امت مسلمہ میں سے کسی فرقے کا اس طرح کے عقائد اپنا لینا کچھ بعید نہیں ہے۔ اس سے اس حدیث کی حقیقت منکشف ہوتی ہے۔آیت 97 قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ اس معاملے میں جبرائیل علیہ السلام کو تو کچھ اختیار حاصل نہیں۔ فرشتے جو کچھ کرتے ہیں اللہ کے حکم سے کرتے ہیں ‘ اپنے اختیار سے کچھ نہیں کرتے۔مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَہُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ اس کے بعد اب فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ ‘ اس کے رسول ﷺ اور اس کے ملائکہ سب ایک حیاتیاتی وحدت organic whole کی حیثیت رکھتے ہیں ‘ یہ ایک جماعت ہیں ‘ ان میں کوئی اختلاف یا افتراق نہیں ہوسکتا۔ اگر کوئی جبرائیل علیہ السلام کا دشمن ہے تو وہ اللہ کا دشمن ہے ‘ اور اگر کوئی اللہ کے سچے رسول ﷺ کا دشمن ہے تو وہ اللہ کا بھی دشمن ہے اور جبرائیل علیہ السلام کا بھی دشمن ہے


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 97 to 101.

قدیم زمانہ میں بہت سی قوموں کو ان پچھلی اہل کتاب کی سرکشی کے نتیجہ میں بار بار ان کو سخت سزائیں دی گئیں ۔ سنت اللہ کے مطابق ہر سزا سے پہلے پیغمبروں کی زبان سے اس کی پیشگی خبر دی جاتی۔ یہ خبر اللہ کی طرف سے جبریل فرشتہ کے ذریعہ پیغمبر کے پاس آتی اور وہ اس سے اپنی قوم کو آگاہ کرتے۔اس قسم کے واقعات میں اصل سبق یہ تھا کہ آدمی کو چاهيے کہ وہ اللہ کی نافرمانی سے بچے تاکہ وہ عذاب الٰہی کی زد میں نہ آجائے۔ مگر عرب کے اہل کتاب ان واقعات سے اس قسم کا سبق نہ لے سکے۔ اس کے بجائے وہ کہنے لگے کہ جبریل فرشتہ ہمارا دشمن ہے۔ وہ ہمیشہ آسمان سے ہمارے خلاف احکام لے کر آتا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا کہ اللہ نے جبریل کے ذریعہ مجھ پر وحی کی ہے تو ان لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ جبریل تو ہمارا پرانا دشمن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبوت جو صرف اسرائیلی گروہ کا حق تھا، اس کو اس نے ایک اور قبیلہ کے فرد تک پہنچا دیا۔

اس قسم کی بے معنی باتیں وہی لوگ کرتے ہیں جو فسق اور بے قیدی کی زندگی گزاررہے ہوں ۔ اہل کتاب کا حال یہ تھا کہ وہ نفس پرستی، آبائی تقلید، نسلی اور قومی عصبیت کی سطح پر جی رہے تھے۔ اور کچھ نمائشی قسم کے مذہبی کام کرکے ظاہر کرتے تھے کہ وہ عین دین خداوندی پر قائم ہیں ۔ جو لوگ اس قسم کی جھوٹی دین داری میں مبتلا ہوں وہ سچے اور بے آمیز دین کی دعوت سن کر ہمیشہ بگڑ جاتے ہیں۔ کیوںکہ ایسی دعوت ان کو ان کے بڑائي كے مقام سے اتارنے کے ہم معنی نظرآتی ہے۔وہ مشتعل نفسیات کے تحت ایسی باتیں بولنے لگتے ہیں جوگرامر کے اعتبار سے درست ہونے کے باوجود حقیقت کے اعتبار سے بالکل بے معنی ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ فرشتوں کا آنا اور رسولوں کا مبعوث ہونا سب مکمل طورپر خدائی منصوبہ کے تحت ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں جب دلائل یہ ظاہر کررہے ہوں کہ پیغمبر عربی کے پاس وہی چیزآئی ہے جو ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ پر آئی تھی اور وہ پچھلے آسمانی صحیفوں کی پیشین گوئیوں کے عین مطابق ہے تو یہ صریح طورپر اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے — آدمی بہت سی باتیں یہ ظاہر کرنے کے ليے بولتا ہے کہ وہ ایمان پر قائم ہے، حالاں کہ وہ باتیں صرف اس کا ثبوت ہوتی ہیں کہ آدمی کا ایمان اور خدا پرستی سے کوئی تعلق نہیں۔


Connections

  • Previous: 2_96
  • Next: 2_98
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes