Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَلَمَّا جَآءَهُمۡ كِتَٰبٞ مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِ مُصَدِّقٞ لِّمَا مَعَهُمۡ وَكَانُواْ مِن قَبۡلُ يَسۡتَفۡتِحُونَ عَلَى ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فَلَمَّا جَآءَهُم مَّا عَرَفُواْ كَفَرُواْ بِهِۦۚ فَلَعۡنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور اب جو ایک کتاب اللہ کی طرف سے ان کے پاس آئی ہے، اس کے ساتھ ان کا کیا برتاؤ ہے؟ باوجود یہ کہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو ان کے پاس پہلے سے موجو د تھی، باوجود یہ کہ اس کی آمد سے پہلے وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح و نصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے، مگر جب وہ چیز آ گئی، جسے وہ پہچان بھی گئے تو، انہوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا خدا کی لعنت اِن منکرین پر
English (Sahih International)
And when there came to them a Book from Allah confirming that which was with them - although before they used to pray for victory against those who disbelieved - but [then] when there came to them that which they recognized, they disbelieved in it; so the curse of Allah will be upon the disbelievers
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 89 وَلَمَّا جَآءَ ہُمْ کِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمْ لا جو اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو ان کے پاس پہلے سے موجود ہے یہ وضاحت قبل ازیں کی جا چکی ہے کہ قرآن کریم ایک طرف تورات اور انجیل کی تصدیق کرتا ہے اور دوسری طرف وہ تورات اور انجیل کی پیشین گوئیوں کا مصداق بن کر آیا ہے۔وَکَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ج ان کا حال یہ تھا کہ وہ اس کی آمد سے پہلے اللہ کی آخری کتاب اور آخری نبی ﷺ کے حوالے اور واسطے سے اللہ تعالیٰ سے کافروں کے خلاف فتح و نصرت کی دعائیں کیا کرتے تھے۔ یہود کے تین قبائل بنو قینقاع ‘ بنو نضیر اور بنو قریظہ مدینہ میں آکر آباد ہوگئے تھے۔ وہاں اوس اور خزرج کے قبائل بھی آباد تھے جو یمن سے آئے تھے اور اصل عرب قبائل تھے۔ پھر آس پاس کے قبائل بھی تھے۔ وہ سب امیینّ میں سے تھے ‘ ان کے پاس نہ کوئی کتاب تھی ‘ نہ کوئی شریعت اور نہ وہ کسی نبوت سے آگاہ تھے۔ ان کی جب آپس میں لڑائیاں ہوتی تھیں تو یہودی چونکہ سرمایہ دار ہونے کی وجہ سے بزدل تھے لہٰذا ہمیشہ مار کھاتے تھے۔ اس پر وہ کہا کرتے تھے کہ ابھی تو تم ہمیں مار لیتے ہو ‘ دبا لیتے ہو ‘ نبی آخر الزمان ﷺ کے آنے کا وقت آچکا ہے جو نئی کتاب لے کر آئیں گے۔ جب وہ آئیں گے اور ہم ان کے ساتھ ہو کر جب تم سے جنگ کریں گے تو تم ہمیں شکست نہیں دے سکو گے ‘ ہمیں فتح پر فتح حاصل ہوگی۔ وہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! اس نبی آخر الزمان کا ظہور جلدی ہو تاکہ اس کے واسطے سے اور اس کے صدقے ہمیں فتح مل سکے۔ خزرج اور اوس کے قبائل نے یہود کی یہ دعائیں اور ان کی زبان سے نبی آخر الزمان ﷺ کی آمد کی پیشین گوئیاں سن رکھی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ 11 نبوی کے حج کے موقع پر جب مدینہ سے جانے والے خزرج کے چھ افراد کو رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعوت پیش کی تو انہوں نے کن انکھیوں سے ایک دوسرے کو دیکھا کہ معلوم ہوتا ہے یہ وہی نبی ﷺ ہیں جن کا یہودی ذکر کرتے ہیں ‘ تو اس سے پہلے کہ یہود ان پر ایمان لائیں ‘ تم ایمان لے آؤ ! اس طرح وہ علم جو بالواسطہ طور پر ان تک پہنچا تھا ان کے لیے ایک عظیم سرمایہ اور ذریعۂ ‘ نجات بن گیا۔ مگر وہی یہودی جو آنے والے نبی کے انتظار میں گھڑیاں گن رہے تھے ‘ آپ ﷺ کی آمد پر اپنے تعصبّ اور تکبرّ کی وجہ سے آپ ﷺ کے سب سے بڑھ کر مخالف بن گئے۔فَلَمَّا جَآءَ ‘ ہُمْ مَّا عَرَفُوْا کَفَرُوْا بِہٖز فَلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 2:87.