Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 2:9 Prev 2:7


Arabic

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَبِٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَمَا هُم بِمُؤۡمِنِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں، حالانکہ در حقیقت وہ مومن نہیں ہیں


English (Sahih International)

And of the people are some who say, “We believe in Allah and the Last Day,” but they are not believers


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 8 وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا باللّٰہِ وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ یہاں ایک بات سمجھ لیجیے ! اکثر و بیشتر مفسرین نے اس تیسری قسم category کے بارے میں یہی رائے قائم کی ہے کہ یہ منافقین کا تذکرہ ہے ‘ اگرچہ یہاں لفظ منافق یا لفظ نفاق نہیں آیا۔ لیکن مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے اس کے بارے میں ایک رائے ظاہر کی ہے جو بڑی قیمتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں ایک کردار کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے ‘ غور کرنے والے غور کرلیں ‘ دیکھ لیں کہ وہ کس پر چسپاں ہو رہا ہے۔ اور جب یہ آیات نازل ہو رہی تھیں تو ان میں شخصیات کی کردار نگاری کا یہ جو نقشہ کھینچا جا رہا ہے یہ بالفعل دو طبقات کے اوپر راست آ رہا تھا۔ ایک طبقہ علماء یہود کا تھا۔ وہ بھی کہتے تھے کہ ہم بھی اللہ کو مانتے ہیں ‘ آخرت کو بھی مانتے ہیں۔ اسی لیے یہاں رسالت کا ذکر نہیں ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر سوا لاکھ نبی آئے ہیں تو ان سوا لاکھ کو تو ہم مانتے ہیں ‘ بس ایک محمد ﷺ کو ہم نے نہیں مانا اور ایک عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانا ‘ تو ہمیں بھی تسلیم کیا جانا چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں۔ اور واقعہ یہ ہے کہ یہاں جس انداز میں تذکرہ ہو رہا ہے اس سے ان کا کردار بھی جھلک رہا ہے اور روئے سخن بھی ان کی طرف جا رہا ہے۔ مجھے یاد ہے دسویں جماعت کے زمانے میں دہلی میں میں نے جوتوں کی ایک دکان پر دیکھا تھا کہ ایک بہت بڑا جوتا لٹکایا ہوا تھا اور ساتھ لکھا تھا : Free to Whom it Fits. یعنی جس کے پاؤں میں یہ ٹھیک ٹھیک آجائے وہ اسے مفت لے جائے ! تو یہاں بھی ایک کردار کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے۔ اب یہ کردار جس کے اوپر بھی فٹ بیٹھ جائے وہ اس کا مصداق شمار ہوگا۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا ‘ زیادہ تر مفسرینّ کی رائے تو یہی ہے کہ یہ منافقین کا تذکرہ ہے۔ لیکن یہ کردار بعینہٖ یہود کے علماء پر بھی منطبق ہو رہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کر لیجیے کہ مدینہ منورہ میں نفاق کا پودا ‘ بلکہ صحیح تر الفاظ میں نفاق کا جھاڑ جھنکاڑ جو پروان چڑھا ہے وہ یہودی علماء کے زیراثر پروان چڑھا ہے۔ جیسے جنگل کے اندر بڑے بڑے درخت بھی ہوتے ہیں اور ان کے نیچے جھاڑیاں بھی ہوتی ہیں۔ تو یہ نفاق کا جھاڑ جھنکاڑ دراصل یہودی علماء کا جو بہت بڑا پودا تھا اس کے سائے میں پروان چڑھا ہے اور ان دونوں میں معنوی ربط بھی موجود ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 8 to 10.

عرب کے لوگوں نے شرک کو سچائی سمجھ کر اختیار کر رکھا تھا۔پیغمبر کی دعوتِ توحید سے شرک کو ماننے والوں کے عقائد متزلزل ہوئے تو اس میں ان لوگوں کو خطرہ محسوس ہونے لگا جو شرک کی زمین پر اپنی سرداری قائم کيے ہوئے تھے۔ ایک عام آدمی کے ليے شرک کو چھوڑنا صرف اپنے آبائی دین کو چھوڑنا ہوتا ہے۔ جب کہ ایک سردار کے ليے شرک کا خاتمہ اس کی سرداری کے خاتمہ کے ہم معنی ہے۔ اس ليے ہر دور میں بے آمیز دین کی دعوت کے سب سے زیادہ مخالف وہ لوگ بن جاتے ہیں جو ملاوٹی دین کی بنیاد پر اپنی قیادت قائم کيے ہوئے ہوں۔

یہ لوگ حق کی دعوت اور اس کے داعی کے بارے میں لایعنی بحثیں پیدا کرتے ہیں۔ وہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کے زیر اثر عوام دعوت کے بارے میں مشتبہ ہوجائیں۔ اور بدستور اپنے رواجی دین پر قائم رہیں۔

حق کی یہ مخالفت وہ صرف اس ليے کرتے ہیں کہ خود ساختہ دین کی بنیاد پر انھوں نے جو اپنی جھوٹی بڑائی قائم کررکھی ہے، وہ بدستور قائم رہے۔ ان کو سچائی سے زیادہ اپنی ذات سے دلچسپی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ خدا کے نزدیک بہت بڑے مجرم ہیں۔ قیامت میں ا ن کے حصہ میں رسوائی اور عذاب کے سوا کچھ آنے والا نہیں۔


Connections

  • Previous: 2_7
  • Next: 2_9
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes