Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَمِنۡهُمۡ أُمِّيُّونَ لَا يَعۡلَمُونَ ٱلۡكِتَٰبَ إِلَّآ أَمَانِيَّ وَإِنۡ هُمۡ إِلَّا يَظُنُّونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
ان میں ایک دوسرا گروہ امّیوں کا ہے، جو کتاب کا تو علم رکھتے نہیں، بس اپنی بے بنیاد امیدوں اور آرزوؤں کو لیے بیٹھے ہیں اور محض وہم و گمان پر چلے جا رہے ہیں
English (Sahih International)
And among them are unlettered ones who do not know the Scripture except in wishful thinking, but they are only assuming
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 78 وَمِنْہُمْ اُمِّیُّوْنَ “ rّ ”اُمی“ کا لفظ قرآن مجید میں اصلاً تو مشرکین عرب کے لیے آتا ہے۔ اس لیے کہ ان کے اندر پڑھنے لکھنے کا رواج ہی نہیں تھا۔ کوئی آسمانی کتاب بھی ان کے پاس نہیں تھی۔ لیکن یہاں یہود کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان میں سے بھی ایک طبقہ ان پڑھ لوگوں پر مشتمل ہے۔ جیسے آج مسلمانوں کا حال ہے کہ اکثر و بیشتر جاہل ہیں ‘ ان میں سے بعض اگرچہ پی ایچ ڈی ہوں گے ‘ لیکن انہیں قرآن کی ”ا ‘ ب ‘ ت“ نہیں آتی ‘ دین کے ”مبادی“ تک سے ناواقف ہیں۔ چناچہ آج پڑھے لکھے مسلمانوں کی بھی عظیم اکثریت ”پڑھے لکھے جاہلوں“ پر مشتمل ہے۔ جبکہ ہماری اکثریت ویسے ہی بغیر پڑھی لکھی ہے۔ تو اب انہیں دین کا کیا پتا ؟ وہ تو سارا اعتماد کریں گے علماء پر ! کوئی بریلوی ہے تو بریلوی علماء پر اعتماد کرے گا ‘ کوئی دیوبندی ہے تو دیوبندی علماء پر اعتماد کرے گا ‘ کوئی اہل حدیث ہے تو اہل حدیث علماء پر اعتماد کرے گا۔ اب امیوں کا سہارا کیا ہوتا ہے ؟ّلاَ یَعْلَمُوْنَ الْکِتٰبَ الاَّ اَمَانِیَّ “ ایسے لوگ کتاب سے تو واقف نہیں ہوتے ‘ بس اپنی کچھ خواہشات اور آرزوؤں پر تکیہ کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان خواہشات کا ذکر آگے آجائے گا۔ یہود کو یہ زعم تھا کہ ہم تو اسرائیلی ہیں ‘ ہم اللہ کے محبوب ہیں اور اس کے بیٹوں کی مانند چہیتے ہیں ‘ ہماری تو شفاعت ہو ہی جائے گی۔ ہمیں تو جہنم میں داخل کیا بھی گیا تو تھوڑے سے عرصے کے لیے کیا جائے گا ‘ پھر ہمیں نکال لیا جائے گا۔ یہ ان کی ”اَمَانِیّ“ ہیں۔ ”اُمْنِیَّۃٌ“ کہتے ہیں بےبنیاد خواہش کو ‘ اَمَانِیّاس کی جمع ہے۔ اس کی صحیح تعبیر کے لیے انگریزی کا لفظ wishful thinkings ہے۔ یہ اپنی ان بےبنیاد خواہشات اور جھوٹی آرزوؤں کے سہارے جی رہے ہیں ‘ کتاب کا علم ان کے پاس ہے ہی نہیں۔وَاِنْ ہُمْ الاَّ یَظُنُّوْنَ “ ان کے پاس محض وہم و گمان اور ان کے اپنے من گھڑت خیالات ہیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 78 to 82.
آرزوؤں (امانی) سے مراد وہ جھوٹے قصے کہانیاں ہیں جوخدائی کتاب کی حامل زوال یافتہ قوموں نے اپنے دین کے بارے میں گھڑ رکھی تھیں اور جو اپنی ظاہرفریبی کی وجہ سے عوام میں خوب پھیل گئی تھیں (أَكَاذِيبَ مُخْتَلِفَةً سَمِعُوهَا مِنْ عُلَمَائِهِمْ فَنَقَلُوهَا عَلَى التَّقْلِيدِ، قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمُجَاهِدٌ، وَاخْتَارَهُ الْفَرَّاءُ ) البحر المحیط، جلد1، صفحہ
445
۔ ان قصے کہانیوں کا خلاصہ یہ تھا کہ جہنم کی آگ یہود کے لیے نہیں ہے۔ ان میں اپنے بزرگوں سے منسوب کرکے ایسی باتیں ملائی گئی تھیں جن سے یہ ثابت ہو کہ(وہ)اللہ کے خاص بندے ہیں ۔ وہ جس دین کو مانتے ہیں اس میں ایسے طلسماتی اوصاف چھپے ہوئے ہیں کہ اس کی معمولی معمولی چیزیں بھی آدمی کو جہنم کی آگ سے بچانے اور جنت کے باغوں میں پہنچادینے کے لیے کافی ہیں ۔
سستی نجات کے یہ مقدس نسخے عوام کے لیے بہت کشش رکھتے تھے۔ کیوں کہ اس میں ان کو اپنی اس خوش خیالی کی تصدیق مل رہی تھی کہ ان کو اپنی غیر ذمہ دارانہ زندگی پر روک لگانے کی ضرورت نہیں ۔ وہ کسی جدوجہد کے بغیر محض ٹونے ٹوٹکے کی برکت سے جنت میں پہنچ جائیں گے۔ چنانچہ جو دینی واعظین قدیم بزرگوں کے حوالے سے یہ خوش کن کہانیاں سناتے تھے ان کو لوگوں کے درمیان زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ آخرت کے معاملے کو آسان بنانا ان کے لیے شان دار دنیوی تجارت کا ذریعہ بن گیا۔ ان کے گرد عوام کی بھیڑ جمع ہوگئی۔ ان کے اوپر نذرانوں کی بارش ہونے لگی۔ وہ لوگوں کو مفت جنت حاصل کرنے کا راستہ بتاتے تھے، لوگوں نے اس کے بدلے ان کے لیے اپنی طرف سے مفت دنیا فراہم کردی۔
یہی ہر دور میں حامل کتاب قوموں کا مرض رہا ہے۔ جولوگ اس قسم کے لذیذ خوابوں میں جی رہے ہوں، جو یہ سمجھ بیٹھے ہوں کہ چند رسمی اعمال کے سوا ان پر کسی ذمہ داری کا بوجھ نہیں ہے۔ جو اس خوش گمانی میں مبتلا ہوںکہ ان کے سارے حقوق خدا کے یہاں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوچکے ہیں، ایسے لوگ سچے دین کی دعوت کو کبھی گوارا نہیں کرتے۔ کیوں کہ ایسی باتیں ان کو اپنی میٹھی نیند کو خراب کرتی ہوئی نظر آتی ہیں، وہ ان کو زندگی کی برہنہ حقیقتوں کے سامنے کھڑا کر دیتی ہیں۔