Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوبُكُم مِّنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ فَهِيَ كَٱلۡحِجَارَةِ أَوۡ أَشَدُّ قَسۡوَةٗۚ وَإِنَّ مِنَ ٱلۡحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنۡهُ ٱلۡأَنۡهَٰرُۚ وَإِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخۡرُجُ مِنۡهُ ٱلۡمَآءُۚ وَإِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَهۡبِطُ مِنۡ خَشۡيَةِ ٱللَّهِۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
مگر ایسی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی آخر کار تمہارے دل سخت ہوگئے، پتھروں کی طرف سخت، بلکہ سختی میں کچھ ان سے بھی بڑھے ہوئے، کیونکہ پتھروں میں سے تو کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جس میں سے چشمے پھوٹ بہتے ہیں، کوئی پھٹتا ہے اور اس میں سے پانی نکل آتا ہے اور کوئی خدا کے خوف سے لرز کر گر بھی پڑتا ہے اللہ تمہارے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے
English (Sahih International)
Then your hearts became hardened after that, being like stones or even harder. For indeed, there are stones from which rivers burst forth, and there are some of them that split open and water comes out, and there are some of them that fall down for fear of Allah. And Allah is not unaware of what you do
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 74 ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ جب دین میں حیلے بہانے نکالے جانے لگیں اور حیلوں بہانوں سے شریعت کے احکام سے بچنے اور اللہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے تو اس کا جو نتیجہ نکلتا ہے وہ دل کی سختی ہے۔فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃً ط ”“یہ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بھی قرآن حکیم کا ایک بڑا عمدہ مقام ہے۔وَاِنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْہُ الْاَنْہٰرُ ط ”“ وَاِنَّ مِنْہَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَآءُ ط ”“ وَاِنَّ مِنْہَا لَمَا یَہْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ ط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ”“ قساوت قلبی کی یہ کیفیت اس امت کے افراد کی بیان کی جا رہی ہے جسے کبھی اہل عالم پر فضیلت عطا کی گئی تھی۔ اس امت پر چودہ سو برس ایسے گزرے کہ کوئی لمحہ ایسا نہ تھا کہ ان کے ہاں کوئی نبی موجود نہ ہو۔ انہیں تین کتابیں دی گئیں۔ لیکن یہ اپنی بدعملی کے باعث قعر مذلتّ میں جا گری۔ عقائد میں ملاوٹ ‘ اللہ اور اس کے رسول کے احکام میں میں میخ نکال کر اپنے آپ کو بچانے کے راستے نکالنے اور اعمال میں بھی ”کتاب الحِیَل“ کے ذریعے سے اپنے آپ کو ذمہ داریوں سے مبرا کرلینے کی روش کا نتیجہ پھر یہی نکلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو اس انجام بد سے بچائے۔ آمین !
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
خدا کے حکم کے بارے میں جو لوگ بحثیں اور تاویلیں کریں ان کے اندر دھیرے دھیرے بے حسی کا مرض پیدا ہوجاتا ہے۔ ان کے دل سخت ہوتے چلے جاتے ہیں۔ خدا کا نام سب سے بڑی ہستی کا نام ہے۔ آدمی کے اندر ایمان زندہ ہو تو خدا کا نام اس کو ہلا دیتا ہے۔ بولنے سے زیادہ اسے چپ لگ جاتی ہے۔ مگر جب دلوں میں جمود اور بے حسی آتی ہے تو خدا کی باتوں میں بھی اسی قسم کی بحثیں اور تاویلیں شروع کردی جاتی ہیں جو عام انسانی کلام میں کی جاتی ہیں۔ اس قسم کا عمل ان کی بے حسی میں اور اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے دل پتھر کی طرح سخت ہوجاتے ہیں۔ اب خدا کا تصور ان کے دلوں کو نہیں پگھلاتا، وہ ان کے اندر تڑپ پیدا نہیں کرتا۔ وہ ان کی روح کے اندر ارتعاش پیدا کرنے کا سبب نہیں بنتا ۔
پتھروں کا ذکر یہاں تمثیل کے طورپر کیا گیاہے۔ خدا نے اپنی کائنات کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ آدمی کے لیے عبرت و نصیحت کا سامان بن گئی ہے۔ یہاں کی ہر چیز خاموش مثال کی زبان میں اسی مرضیٔ رب کا عملی نشان ہے جو مرضیٔ رب قرآن میں ان الفاظ کے ذریعہ بیان کی گئی ہے۔
پتھروں کے ذریعہ خدا نے اپنی دنیا میں جو تمثیلات قائم کی ہیں ان میں سے تین چیزوں کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔
پہاڑوں پر ایک مشاہدہ یہ سامنے آتا ہے کہ پتھروں کے اندر سے پانی کے سوتے بہتے رہتے ہیں جو بالآخر مل کر دریا کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ یہ اس انسان کی تمثیل ہے جس کے دل میں اللہ کا ڈر بسا ہوا ہو اور وہ آنسوؤں کی صورت میں اس کی آنکھ سے بہہ پڑتا ہے۔
دوسری مثال اس پتھر کی ہے جو بظاہر خشک چٹان معلوم ہو، مگر جب توڑنے والے اس کو توڑتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے نیچے پانی کا بڑا ذخیرہ موجود تھا۔ ایسی چٹانوں کو توڑکر کنوئیں بنائے جاتے ہیں۔ یہ اس انسان کی تمثیل ہے جو بظاہر خدا سے دور معلوم ہوتاتھا۔ اس کے بعد اس پر ایک حادثہ گزرا۔ اس حادثے نے اس کی روح کو ہلا دیا۔ وہ آنسوؤں کے سیلاب کے ساتھ خدا کی طرف دوڑ پڑا۔
پتھروں کی دنیا میں تیسری مثال ہبوط (لینڈ سلائڈ) کی ہے۔ یعنی پہاڑوں کے اوپر سے پتھر کے ٹکڑوں کا لڑھک کر نیچے آجانا۔ یہ اس انسان کی تمثیل ہے جس نے کسی انسان کے مقابلے میں غلط رویہ اختیا رکیا۔ اس کے بعد اس کے سامنے خدا کا حکم پیش کیا گیا۔ خدا کا حکم سامنے آتے ہی وہ ڈھ پڑا۔ انسان کے سامنے وہ جھکنے کے لیے تیار نہ تھا۔ مگر جب انسان کا معاملہ خدا کا معاملہ بن گیا تو وہ عاجزانہ طورپر اس کے آگے گر پڑا۔