Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَإِذۡ نَجَّيۡنَٰكُم مِّنۡ ءَالِ فِرۡعَوۡنَ يَسُومُونَكُمۡ سُوٓءَ ٱلۡعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُونَ نِسَآءَكُمۡۚ وَفِي ذَٰلِكُم بَلَآءٞ مِّن رَّبِّكُمۡ عَظِيمٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے تم کو فرعونیوں کی غلامی سے نجات بخشی اُنہوں نے تمہیں سخت عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا، تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس حالت میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی
English (Sahih International)
And [recall] when We saved your forefathers from the people of Pharaoh, who afflicted you with the worst torment, slaughtering your [newborn] sons and keeping your females alive. And in that was a great trial from your Lord
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 49 وَاِذْ نَجَّیْنٰکُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْءَ الْعَذَابِ ”“ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَ ‘ کُمْ وَیَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَ کُمْ ط فرعون نے حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل میں جو بھی لڑکا پیدا ہو اس کو قتل کردیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے تاکہ ان سے خدمت لی جاسکے اور انہیں لونڈیاں بنایا جاسکے۔ بنی اسرائیل کے ساتھ یہ معاملہ دو مواقع پر ہوا ہے۔ اس کی تفصیل ان شاء اللہ بعد میں آئے گی۔وَفِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ “
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 2:47.