Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 2:285 Prev 2:283


Arabic

لِّلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ وَإِن تُبۡدُواْ مَا فِيٓ أَنفُسِكُمۡ أَوۡ تُخۡفُوهُ يُحَاسِبۡكُم بِهِ ٱللَّهُۖ فَيَغۡفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، سب اللہ کا ہے تم اپنے دل کی باتیں خواہ ظاہر کرو یا چھپاؤ اللہ بہرحال ان کا حساب تم سے لے لے گا پھر اسے اختیار ہے، جسے چاہے، معاف کر دے اور جسے چاہے، سزا دے وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے


English (Sahih International)

To Allah belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth. Whether you show what is within yourselves or conceal it, Allah will bring you to account for it. Then He will forgive whom He wills and punish whom He wills, and Allah is over all things competent


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم سورة البقرۃ کے آخری رکوع پر پہنچ گئے ہیں۔ یہ عظیم الشان رکوع تین آیات پر مشتمل ہے۔ قبل ازیں ہم اسی طرح کا ایک عظیم رکوع پڑھ آئے ہیں جس کی چار آیات ہیں اور اس میں آیت الکرسی بھی ہے۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ یہ دونوں رکوع اپنی عظمت اور اپنے مقام کے اعتبار سے ایک دوسرے کے ہم پلہّ ہیں۔ آیت الکرسی توحید کے موضوع پر قرآن حکیم کی جامع ترین آیت ہے ‘ اور اس رکوع کی آخری آیت جامع ترین دعا پر مشتمل ہے۔آیت 284 لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط۔ آپ دیکھیں گے کہ اکثر و بیشتر اس طرح کے الفاظ سورتوں کے اختتام پر آتے ہیں۔وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ ط۔ تمہاری نیتیں اس کے علم میں ہیں۔ ایک حدیث میں الفاظ آتے ہیں : اِنَّ اللّٰہَ لَا یَنْظُرُ اِلٰی صُوَرِکُمْ وَاَمْوَالِکُمْ وَلٰکِنْ یَنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَاَعْمَالِکُمْ 36 یقیناً اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو اور تمہارے مال و دولت کو نہیں دیکھتا ‘ بلکہ تمہارے دلوں کو اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔ تو تمہارے دل میں جو کچھ ہے خواہ اسے کتنا ہی چھپالو اللہ کے محاسبے سے نہیں بچ سکو گے۔فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ ط۔ اختیار مطلق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہمارے ہاں اہل سنت کا عقیدہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ پر لازم نہیں ہے کہ نیکوکار کو اس کی جزا ضرور دے اور بدکار کو اس کی سزا ضرور دے۔ یہ دوسری بات ہے کہ اللہ ایسا کرے گا ‘ لیکن اللہ کی شان اس سے بہت اعلیٰ وارفع ہے کہ اس پر کسی شے کو لازم قرار دیا جائے۔ اس کا اختیار مطلق ہے ‘ وہ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ البروج کی شان کا حامل ہے۔ سورة الحج میں الفاظ آئے ہیں : اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یَشَاءُ یقیناً اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اہل تشیع کا موقف یہ ہے کہ اللہ پر عدل واجب ہے۔ اہل سنت کہتے ہیں کہ اللہ عدل کرے گا ‘ جزاء و سزا میں عدل ہوگا ‘ لیکن عدل کرنا اس پر واجب نہیں ہے ‘ بلکہ اللہ نے جو شے اپنے اوپر واجب کی ہے وہ رحمت ہے۔ ازروئے الفاظ قرآنی : کَتَبَ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ ط الانعام : 12 اور : کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَلا الانعام : 54 تمہارے رب نے رحمت کو اپنے اوپر واجب کرلیا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 284 to 286.

کائنات کی ہر چیز اللہ کے زیر حکم ہے۔ ذرہ سے لے کر ستاروں تک سب خدا کے مقررہ نقشہ میں بندھے ہوئے ہیں۔ وہ اسی راستہ پر چل رہے ہیں جس پر چلنے کے لیے خدا نے ان کو پابند کردیا ہے۔ مگر انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو اپنے کو خود مختار حالت میں پاتا ہے۔ بظاہر وہ آزاد ہے کہ اپنی مرضی سے جو راستہ چاہے اختیار کرے۔ مگر انسان کی آزادی مطلق نہیں ہے بلکہ امتحان کے لیے ہے۔ انسان کو بھی کائنات کے بقیہ اجزاء کی طرح خدا کی پابندی کرنی ہے۔ جس پابند زندگی کو بقیہ کائنات نے بزور اختیار کیا ہے وہی پابند زندگی انسان کو اپنے ارادہ سے اختیار کرنا ہے۔ انسان کو ظاہری صورت حال سے دھوکا کھا کر یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی ہر وقت مالک کائنات کی نظر میں ہے، وہ اس کی ہر چھوٹی بڑی بات کی نگرانی کررہاہے خواہ وہ اس کے اندر ہو یا اس کے باہر۔

وہ کون سا انسان ہے جو اللہ کو مطلوب ہے۔ وہ ایمان اور اطاعت والا انسان ہے۔ ایمان سے مراد آدمی کی شعوری حوالگی ہے اور اطاعت سے مراد اس کی عملی حوالگی۔ شعور کے اعتبار سے یہ مطلوب ہے کہ آدمی اللہ کو اپنے خالق اور مالک کی حیثیت سے اپنے اندر اتار لے۔ وہ اس حقیقت کو پاگیا ہو کہ کائنات کا نظام کوئی بے روح مشینی نظام نہیں ہے بلکہ ایک زندہ نظام ہے جس کو خدا اپنے فرماں بردار کارندوں کے ذریعہ چلا رہا ہے۔ اس نے خدا کے بندوں میں سے ان بندوں کو پہچان لیا ہو جن کو خدا نے اپنا پیغام پہنچانے کے لیے چنا۔ خدا نے انسانوں کی ہدایت کے لیے جو کتاب اتاری ہے اس کو وہ حقیقی معنوں میں اپنے فکر وخیال کا جزء بنا چکا ہو۔ رسالت اور پیغمبری اس کو پوری انسانی تاریخ میں ایک مسلسل واقعہ کی صورت میں نظر آنے لگے۔ ایمانیات کو اس طرح اپنے دل ودماغ میں بٹھا لینے کے بعد وہ اپنی زندگی ہمہ تن اس کے نقشہ پر ڈھال دے۔

پھر یہ ایمان واطاعت اس کے لیے کوئی رسمی اور ظاہری معاملہ نہ ہو بلکہ وہ اس کی روح کو اس طرح گھلا دے کہ وہ اللہ کو پکارنے لگے۔ اس کا وجود خدا کی یاد میں ڈھل جائے۔ اس کی زندگی تمام تر خدا کے اوپر نربھر ہوجائے۔


Connections

  • Previous: 2_283
  • Next: 2_285
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes