Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 2:268 Prev 2:266


Arabic

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَنفِقُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا كَسَبۡتُمۡ وَمِمَّآ أَخۡرَجۡنَا لَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِۖ وَلَا تَيَمَّمُواْ ٱلۡخَبِيثَ مِنۡهُ تُنفِقُونَ وَلَسۡتُم بِـَٔاخِذِيهِ إِلَّآ أَن تُغۡمِضُواْ فِيهِۚ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لیے نکالا ہے، اُس سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو ایسا نہ ہو کہ اس کی راہ میں دینے کے لیے بری سے بری چیز چھانٹنے کی کوشش کرنے لگو، حالانکہ وہی چیز اگر کوئی تمہیں دے، تو تم ہرگز اُسے لینا گوارا نہ کرو گے الّا یہ کہ اس کو قبول کرنے میں تم اغماض برت جاؤ تمہیں جان لینا چاہیے کہ اللہ بے نیاز ہے اور بہترین صفات سے متصف ہے


English (Sahih International)

O you who have believed, spend from the good things which you have earned and from that which We have produced for you from the earth. And do not aim toward the defective therefrom, spending [from that] while you would not take it [yourself] except with closed eyes. And know that Allah is Free of need and Praiseworthy


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 267 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ اللہ کے دین کے لیے خرچ کرنا ہے ‘ اللہ کے نام پر دینا ہے تو جو کچھ تم نے کمایا ہے اس میں سے اچھی چیز ‘ پاکیزہ چیز ‘ بہتر چیز نکالو۔ وَمِمَّآ اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ ظاہر بات ہے کہ زمین سے جو بھی نباتات باہر آرہی ہیں ان کا پیدا کرنے والا اللہ ہے۔ چاہے کوئی چراگاہ ہے تو اس کے اندر جو ہریاول ہے وہ اللہ ہی نے پیدا کی ہے۔ کھیت کے اندر آپ نے محنت کی ہے ‘ ہل چلایا ہے ‘ بیج ڈالے ہیں ‘ لیکن فصل کا اگانا تو آپ کے اختیار میں نہیں ہے ‘ یہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ع پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون ؟ چناچہ فرمایا کہ جو کچھ ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا ہے اس میں سے ہماری راہ میں خرچ کرو !وَلاَ تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ ایسا نہ ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے ردّی اور ناکارہ مال چھانٹنے کی کوشش کرنے لگو۔ مثلاً بھیڑ بکریوں کا گلہ ہے ‘ اس میں سے تمہیں زکوٰۃ کے لیے بھیڑیں اور بکریاں نکالنی ہیں تو ایسا ہرگز نہ ہو کہ جو کمزور ہیں ‘ ذرا لاغر ہیں ‘ بیمار ہیں ‘ نقص والی ہیں انہیں نکال کر گنتی پوری کر دو۔ اسی طرح عشر نکالنا ہے تو ایسا نہ کرو کہ گندم کے جس حصے پر بارش پڑگئی تھی وہ نکال دو۔ تیمم کے معنی قصد اور ارادہ کرنے کے ہیں۔وَلَسْتُمْ بِاٰخِذِیْہِ اِلَّآ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْہِ ط ایسا بھی تو ہوسکتا ہے کہ تم محتاج ہوجاؤ اور تمہیں ضرورت پڑجائے ‘ پھر اگر تمہیں کوئی ایسی چیز دے گا تو تم قبول نہیں کرو گے ‘ اِلاّ یہ کہ چشم پوشی کرنے پر مجبور ہوجاؤ۔ احتیاج اس درجے کی ہو کہ نفیس یا خبیث جو شے بھی مل جائے چشم پوشی کرتے ہوئے اسے قبول کرلو۔ ورنہ آدمی اپنے طیب خاطر کے ساتھ ردّی شے قبول نہیں کرسکتا۔وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ یہاں غنی کا لفظ دوبارہ آیا ہے۔ یہ نہ سمجھو کہ تم کسی محتاج اور ضرورت مند کو دے رہے ہو ‘ بلکہ یوں سمجھو کہ اللہ کو دے رہے ہو ‘ جو غنی ہے ‘ سب کی ضرورتیں پوری کرنے والا ہے اور حمید ہے ‘ یعنی اپنی ذات میں خود محمود ہے۔ ایک تو کسی شے کی اچھائی یا حسن یا کمال ایسا ہوتا ہے کہ جسے ظاہر کیا جائے کہ بھئی دیکھو اس میں یہ خوبصورتی ہے۔ اور ایک وہ خوبصورتی ہوتی ہے جو ازخود ظاہر ہو۔ ع حاجت مشاطہّ نیست روئے دل آرام را ! تو اللہ تعالیٰ اتنا ستودہ صفات ہے کہ وہ اپنی ذات میں از خود محمود ہے ‘ اسے کسی حمد کی حاجت نہیں ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 267 to 269.

آدمی دنیا میں جو کچھ کماتا ہے اس کو خرچ کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو شیطان کے بتائے ہوئے راستہ میں خرچ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ اس کو اللہ کے بتائے ہوئے راستہ میں خرچ کیا جائے۔ شیطان یہ کرتا ہے کہ آدمی کے ذاتی تقاضوں کی اہمیت اس کے دل میں بٹھاتا ہے۔ وہ اس کو سکھاتا ہے کہ تم نے جو کچھ کمایا ہے اس کا بہترین مصرف یہ ہے کہ اس کو اپنی ذاتی ضرورتوں کو پورا کرنے میں لگاؤ۔ پھر جب شیطان دیکھتا ہے کہ آدمی کے پاس اس کی حقیقی ضرورت سے زیادہ مال ہے تو وہ اس کے اندر ایک اور جذبہ بھڑکا دیتاہے۔ یہ نمود و نمائش کا جذبہ ہے۔ اب وہ اپنی دولت کو بے دریغ نمائشی کاموں میں بہانے لگتا ہے اور خوش ہوتا ہے کہ اس نے اپنی دولت کو بہترین مصرف میں لگایا۔

آدمی کو چاہيے کہ اپنے مال کو اپنی ذاتی چیز نہ سمجھے بلکہ اللہ کی چیز سمجھے۔ وہ اپنی کمائی میں سے اپنی حقیقی ضرورت کے بقدر لے لے اور اس کے بعد جو کچھ ہے اس کو بلند تر مقاصد میں لگائے۔ وہ خدا کے کمزور بندوں کو دے اور خدا کے دین کی ضرورتوں میں خرچ کرے۔ آدمی جب اللہ کے کمزور بندوں پر اپنا مال خرچ کرتا ہے تو گویا وہ اپنے رب سے اس بات کا امیدوار بن رہا ہوتا ہے کہ آخرت میں جب وہ خالی ہاتھ خداکے سامنے حاضر ہو تو اس کا خدا اس کو اپنی رحمتوں سے محروم نہ کرے۔ اسی طرح جب وہ دین کی ضرورتوں میں اپنا مال دیتاہے تو وہ اپنے آپ کو خدا کے مشن میں شریک کرتاہے۔ وہ اپنے مال کو خدا کے مال میں شامل کرتاہے تاکہ اس کی حقیر پونجی خدا کے بڑے خزانہ میں مل کر زیادہ ہوجائے۔

جو شخص اپنے مال کو اللہ کے بتائے هوئے طریقے کے مطابق خرچ کرتا ہے وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اس کو حکمت ودانائی میں سے حصہ ملا ہے۔ سب سے بڑی نادانی یہ ہے کہ آدمی مال کی محبت میں مبتلا ہو اور اس کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے سے رک جائے اور سب سے بڑی دانائی یہ ہے کہ اقتصادی مفادات آدمی کے لیے اللہ کی راہ میں بڑھنے میں رکاوٹ نہ بنیں۔ وہ اپنے آپ کو خدا میں اتنا ملا دے کہ خدا کو اپنا اور اپنے کو خدا کا سمجھنے لگے۔ جو شخص ذاتی مصلحتوں کے خول میں جیتا ہے اس کے اندر وہ نگاہ پیدا نہیں ہوسکتی جو بلند تر حقیقتوں کو دیکھے اور اعلیٰ کیفیات کا تجربہ کرے۔ اس کے برعکس، جو شخص ذاتی مصلحتوں کو نظر انداز کرکے خدا کی طرف بڑھتا ہے وہ اپنے آپ کو محدودیتوں سے اوپر اٹھاتا ہے، وہ اپنے شعور کو اس خدا کے ہم سطح کرلیتاہے جو غنی وحمید اور وسیع وعلیم ہے۔ وہ چیزوں کو ان کے اصلی روپ میں دیکھنے لگتا ہے۔ کیوں کہ وہ ان حد بندیوں کے پار ہوجاتا ہے جو آدمی کے لیے کسی چیز کو اس کے اصلی روپ میں دیکھنے میں رکاوٹ بنتی ہیں — کوئی بات خواہ کتنی ہی سچی ہو مگر اس کی سچائی کسی آدمی پر اسی وقت کھلتی ہے جب کہ وہ اس کو کھلے ذہن سے دیکھ سکے۔


Connections

  • Previous: 2_266
  • Next: 2_268
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes