Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِٱلۡجُنُودِ قَالَ إِنَّ ٱللَّهَ مُبۡتَلِيكُم بِنَهَرٖ فَمَن شَرِبَ مِنۡهُ فَلَيۡسَ مِنِّي وَمَن لَّمۡ يَطۡعَمۡهُ فَإِنَّهُۥ مِنِّيٓ إِلَّا مَنِ ٱغۡتَرَفَ غُرۡفَةَۢ بِيَدِهِۦۚ فَشَرِبُواْ مِنۡهُ إِلَّا قَلِيلٗا مِّنۡهُمۡۚ فَلَمَّا جَاوَزَهُۥ هُوَ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ قَالُواْ لَا طَاقَةَ لَنَا ٱلۡيَوۡمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِهِۦۚ قَالَ ٱلَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَٰقُواْ ٱللَّهِ كَم مِّن فِئَةٖ قَلِيلَةٍ غَلَبَتۡ فِئَةٗ كَثِيرَةَۢ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ مَعَ ٱلصَّـٰبِرِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
پھر جب طالوت لشکر لے کر چلا، تو اُس نے کہا: “ایک دریا پر اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہونے والی ہے جواس کا پانی پیے گا، وہ میرا ساتھی نہیں میرا ساتھی صرف وہ ہے جو اس سے پیاس نہ بجھائے، ہاں ایک آدھ چلو کوئی پی لے، تو پی لے” مگر ایک گروہ قلیل کے سوا وہ سب اس دریا سے سیراب ہوئے پھر جب طالوت اور اس کے ساتھی مسلمان دریا پار کر کے آگے بڑھے، تو اُنہوں نے طالوت سے کہہ دیا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے لیکن جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ انہیں ایک دن اللہ سے ملنا ہے، انہوں نے کہا: “بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے
English (Sahih International)
And when Saul went forth with the soldiers, he said, “Indeed, Allah will be testing you with a river. So whoever drinks from it is not of me, and whoever does not taste it is indeed of me, excepting one who takes [from it] in the hollow of his hand.” But they drank from it, except a [very] few of them. Then when he had crossed it along with those who believed with him, they said, “There is no power for us today against Goliath and his soldiers.” But those who were certain that they would meet Allah said, “How many a small company has overcome a large company by permission of Allah. And Allah is with the patient
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 249 فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بالْجُنُوْدِ لا قَالَ اِنَّ اللّٰہَ مُبْتَلِیْکُمْ بِنَہَرٍج فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ فَلَیْسَ مِنِّیْ ج وَمَنْ لَّمْ یَطْعَمْہُ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ اِلاَّ مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَۃًم بِیَدِہٖج اصل میں ہر کمانڈر کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ کسی بھی بڑی جنگ سے پہلے اپنے ساتھیوں کے جوش و جذبہ اور عزم و حوصلہ ‘ morale کو پرکھے اور نظم ‘ discipline کی حالت کو دیکھے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے بھی غزوۂ بدر سے قبل مشاورت کی تھی کہ مسلمانو ! ایک طرف جنوب سے کیل کانٹے سے لیس ایک لشکر آ رہا ہے اور دوسری طرف شمال سے مال و اسباب سے لدا پھندا ایک قافلہ آ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان دونوں میں سے ایک تمہیں ضرور ملے گا۔ بتاؤ کدھر چلیں ؟ کچھ لوگ جو کمزوری دکھا رہے تھے انہوں نے کہا کہ چلیں پہلے قافلہ لوٹ لیں ! اور جو لوگ باہمت تھے انہوں نے کہا حضور ! جو آپ ﷺ کا ارادہ ہو ‘ جو آپ ﷺ ‘ کی منشا ہو ‘ آپ ﷺ اس کے مطابق فیصلہ فرمایئے ‘ ہم حاضر ہیں ! تو یہاں بھی طالوت نے اپنے لشکریوں کا ٹیسٹ لیا کہ وہ میرے حکم کی پابندی کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔فَشَرِبُوْا مِنْہُ اِلاَّ قَلِیْلاً مِّنْہُمْ ط فَلَمَّا جَاوَزَہٗ ہُوَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ لا واضح رہے کہ سب سے پہلی سکریننگ قبل ازیں ہوچکی تھی۔ ان میں سے جو قتال ہی کے منکر ہوگئے ‘ تھے وہ پہلے ہی الگ ہوچکے تھے۔ اب یہ دوسری چھلنی تھی۔ جو اس میں سے نہیں نکل سکے وہ پانی پی کر بےسدھ ہوگئے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے غزوۂ احد میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک ہزار آدمی مدینہ منورہ سے نکلے تھے اور پھر عین وقت پر تین سو افراد ساتھ چھوڑ کر چلے گئے۔ تو جب طالوت اور ان کے ان ساتھیوں نے جو ایمان پر ثابت قدم رہے تھے ‘ دریا پار کرلیا۔۔قَالُوْا لاَ طَاقَۃَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖ ط۔ جالوت ‘ Goliath بڑا قوی ہیکل اور گرانڈیل انسان تھا۔ زرہ بکتر میں اس کا پورا جسم اس طرح چھپا ہوا تھا کہ سوائے آنکھ کے سوراخ کے جسم کا کوئی حصہ کھلا نہیں تھا۔ اس کی مبارزت کے جواب میں کوئی بھی مقابلے پر نہیں آ رہا تھا۔قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰقُوا اللّٰہِ لاکَمْ مِّنْ فِءَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِءَۃً کَثِیْرَۃًم بِاِذْنِ اللّٰہِ ط۔سو تم آگے بڑھو ‘ ہمت کرو ‘ اپنی کم ہمتی کا ثبوت نہ دو۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد سے تمہیں فتح حاصل ہوجائے گی۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 249 to 251.
حضرت موسیٰ ؑکے تقریباً 3 سو سال بعداور حضرت مسیح سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے ایسا ہوا کہ فلستیوں نے بنی اسرائیل پر حملہ کیا اور فلسطین کے اکثر علاقے ان سے چھین ليے۔ ایک عرصہ کے بعد بنی اسرائیل نے چاہاکہ وہ فلستیوں کے خلاف اقدام کریں اور اپنے علاقے ان سے واپس لیں۔ اس وقت ان کے درمیان ایک نبی تھے جن کا نام سموئیل تھا۔ وہ شام کے ایک قدیم شہر رامہ میں رہتے تھے اور بنی اسرائیل کے اجتماعی امور کے ذمہ دار تھے۔بنی اسرائیل کا ایک وفد ان سے ملا۔ اور کہا کہ آپ اب بوڑھے ہوچکے ہیں، اس ليے آپ ہم میں سے کسی کو ہمارے اوپر بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم اس کی رہنمائی میں جنگ کرسکیں۔ تورات کے الفاظ میں ’’اور ہمارا بادشاہ ہماری عدالت کرے اور ہمارے آگے آگے چلے اور ہماری لڑائی کرے‘‘۔
حضرت سموئیل اگرچہ اپنی قوم کے کردار کے بارے میں اچھی رائے نہ رکھتے تھے تاہم ان کے مطالبہ کی بنا پر انھوں نے کہا کہ اچھا میں تمھارے ليے ایک بادشاہ مقرر کردوں گا۔ چنانچہ انھوں نے قبیلہ بن یمین کے ایک بہادر نوجوان ساؤل (طالوت) کو ان کا بادشاہ (سردار) مقرر کردیا۔
ساؤل (طالوت) بنی اسرائیل کا لشکر لے کر دشمن کی طرف بڑھے۔ راستہ میں دریائے یردن پڑتا تھا۔ اس کو پار کرکے دشمن کے علاقہ میں پہنچنا تھا۔ چوں کہ طالوت کو بنی اسرائیل کی کمزوریوں کا علم تھا، انھوں نے ان کی جانچ کے لیے ایک سادہ طریقہ استعمال کیا۔ دریا کو پار کرتے ہوئے انھوںنے اعلان کیا کہ کوئی شخص پانی نہ پئے۔ البتہ ایک آدھ چلو لےلے تو کوئی حرج نہیں۔ بنی اسرائیل کی بڑی تعداد اس امتحان میں پوری نہ اتری۔ تاہم اس مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے انھیں کامیابی دی۔ حضرت داؤد جو اس وقت صرف ایک نوجوان تھے، انھوں نے اس جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ فلستیوں کی فوج کا زبردست پہلوان جالوت ان کے ہاتھ سے قتل ہوا۔ اس کے بعد فلستیوں نے اسرائیل کے مقابلہ میں ہتھیار ڈال ديے۔
مقابلہ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ افراد کے اندر مشکلات پر جمے رهنےاور سردار کی اطاعت کرنے کا مادہ ہو۔ طالوت کا اپنے ساتھیوں کو پانی پینے سے منع کرنا اسی استعداد کی جانچ کی ایک سادہ سی تدبیر تھی۔ بائبل کے بیان کے مطابق ان میں سے صرف 600 آدمی ایسے نکلے جنھوں نے راستہ میں آنے والے دریا کا پانی نہیںپیا۔ جن لوگوں نے پانی پیا انھوں نے گویا اپنی اخلاقی کمزوریوں کو اور پختہ کرلیا۔ اس ليے دشمن کا بظاہر طاقت ور ہونا اب ان کو اور زیادہ محسوس ہونے لگا۔ دوسری طرف جن لوگوں نے پانی نہیں پيا تھا ان کے اس فعل سے ان کا صبر اور اطاعت کا مزاج اور زیادہ مضبوط ہوگیا۔ ان کو وہ حقیقت اور زیادہ واضح صورت میں دکھائی دینے لگی جس کو بائبل کے بیان کے مطابق طالوت کے ایک ساتھی نے ان لفظوں میں بیان کیا تھا: اور یہ ساری جماعت جان لے کہ خداوند تلوار اور بھالے کے ذریعے سے نہیں بچاتا۔ اس ليے کہ جنگ تو خداوند کی ہے اور وہی تم کو ہمارے ہاتھ میں کردے گا (1 سموئیل
17 :48
)۔
اقتدار جس کے پاس ہو وہ کچھ دنوں بعد گھمنڈ میں پڑ کر ظلم کرنے لگتا ہے۔ اس ليے اقتدار اگر کسی کے پاس مستقل طورپر جمع ہوجائے تو اس کے ظلم وفساد سے زمین بھر جائے۔ اس کی تلافی کا انتظام اللہ نے اس طرح کیا ہے کہ وہ صاحبان اقتدار کو بدلتا رہتا ہے۔ وہ بے اقتدار لوگوں میں سے ایک گروہ کو اٹھاتا ہے اور اس کے ذریعہ سے صاحب اقتدار کو ہٹا کر اس کے منصب پر دوسرے کو بٹھا دیتاہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی برسرِ اقتدار جماعت کا ظلم بڑھ جائے تو یہ اس کے خلاف اٹھنے والے گروہ کے لیے خدائی مدد کا وقت ہوتاہے۔ اگر وہ صبر اور اطاعت کی شرط کو پورا کرتے ہوئے اپنے آپ کو خدائی منصوبہ میں شامل کردے تو بظاہر کم ہونے کے باوجود وہ خداكی مدد سے زیادہ کے اوپر غالب آجائے گا — خدا کا خوف محض ایک منفی چیز نہیں، وہ ایک علم ہے جو آدمی کے ذہن کو اس طرح روشن کردیتاہے کہ وہ ہر چیز کو اس کے اصلی اور حقیقی روپ میں دیکھ سکے۔