Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
حَٰفِظُواْ عَلَى ٱلصَّلَوَٰتِ وَٱلصَّلَوٰةِ ٱلۡوُسۡطَىٰ وَقُومُواْ لِلَّهِ قَٰنِتِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اپنی نمازوں کی نگہداشت رکھو، خصوصاً ایسی نماز کی جو محاسن صلوٰۃ کی جا مع ہو اللہ کے آگے اس طرح کھڑے ہو، جیسے فر ماں بردار غلام کھڑ ے ہوتے ہیں
English (Sahih International)
Maintain with care the [obligatory] prayers and [in particular] the middle prayer and stand before Allah, devoutly obedient
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 238 حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی ق یہ جو بار بار آ رہا ہے کہ جان لو اللہ ہر شے کا جاننے والا ہے ‘ جان رکھو کہ اللہ تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے ‘ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ کی نگاہ میں ہے ‘ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے ‘ تو اس سب کو قلب و ذہن میں مستحضر رکھنے کے لیے تمہیں پنج وقتہ نماز دی گئی ہے کہ اس کی نگہداشت کرو۔ دنیا کے کاروبار سے نکلو اور اللہ کے حضور حاضر ہو کر اس سے کیا ہوا عہد تازہ کرو۔ حفیظ کا ایک شعر ہے : سرکشی نے کردیے دھندلے نقوش بندگی آؤ سجدے میں گریں لوح جبیں تازہ کریں !صلوٰۃ وسطیٰ بیچ والی نماز کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں ‘ لیکن عام طور پر اس سے مراد عصر کی نماز لی جاتی ہے۔ اس لیے کہ دن میں دو نمازیں فجر اور ظہر اس سے پہلے ہیں اور دو ہی نمازیں مغرب اور عشاء اس کے بعد میں ہیں۔وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ ۔ قیام ‘ رکوع اور سجدہ فرائضِ نماز میں سے ہیں۔ رکوع میں بندہ اپنے رب کے حضور عاجزی سے جھک جاتا ہے ‘ سجدہ اس جھکنے کی انتہا ہے۔ مطلوب یہ ہے کہ قیام بھی قنوت ‘ عاجزی اور انکساری کے ساتھ ہو ‘ معلوم ہو کہ ایک بندہ اپنے آقا کے سامنے باادب کھڑا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 238 to 242.
نماز گویا دین کا خلاصہ ہے۔ نماز مومنانہ زندگی کی وہ مختصر تصویر ہے جو پھیلتی ہے تو مکمل اسلامی زندگی بن جاتی ہے۔ یہاں ایک مختصر فقرہ میں نماز کے تین اہم ترین اجزاء کو بیان کردیا گیا ہے(1)نماز کا پانچ وقت کے لیے فرض ہونا۔2) (نماز کا ایک قابل اہتمام چیز ہونا۔(3)یہ بات کہ نماز کی اصل حقیقت عجز ہے۔
’’پابندی کرو نمازوں کی اور پابندی کرو بیچ کی نماز کی‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ نمازوں میں ایک بیچ کی نماز ہے اور پھر اس کے دونوں طرف نمازیں ہیں۔ اس جملہ میں اطراف کی ’’نمازوں‘‘ سے کم از کم چار کا عدد مراد لینا ضروری ہے کیوں کہ عربی زبان میں صلوات (نمازوں) کا اطلاق تین یا اس سے زیادہ کے عدد کے لیے ہوتا ہے۔ پہلا ممکن عدد جس میں ’’نمازوں‘‘کے درمیان ایک ’’بیچ کی نماز‘‘ بن سکے چارہی ہے۔ اس طرح ایک نماز بیچ کی نماز ہو کر اس کے دونوں طرف دو دو نمازیں ہوجاتی ہے۔ ’’بیچ کی نماز‘‘ سے مراد عصر کی نماز ہے جیسا کہ روایات سے ثابت ہے۔ نماز کے دوسرے پہلو کو بتانے کے لیے ’’محافظت‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ گویا نماز اسی طرح حفاظت کی ایک چیز ہے جس طرح مال آدمی کے لیے حفاظت کی چیز ہوتا ہے۔ نماز کے اوقات کا پورا لحاظ، اس کو بتائے ہوئے طریقہ پر ادا کرنے کا اہتمام، ایسی چیزوں سے بالقصد پرہیز جو آدمی کی نماز میں کوئی خرابی پیدا کرنے والی ہوں وغیرہ، محافظت نماز میں شامل ہیں۔ نماز کا تیسرا پہلو عجز ہے۔ یہ نماز کی اصل روح ہے، نماز بندے کا اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اس ليے ضروری ہے کہ نماز کے وقت آدمی کے اوپر وہ کیفیت طاری ہو جو سب سے بڑے کے آگے کھڑے ہونے کی صورت میں سب سے چھوٹے کے اوپر طاری ہوتی ہے۔
معاشرت کے احکام بتاتے ہوئے یہ کہنا کہ ’’یہ حق ہے متقیوں کے اوپر‘‘ شریعت کے ایک اہم پہلو کو ظاہر کرتاہے۔ باہمی معاملات میں کچھ حقوق وہ ہیں جن کو قانون نے متعین کردیا ہے۔ مگر ایک آدمی پر دوسرے کے حقوق کی حدیں یہیں ختم نہیں ہوجاتیں۔ متعین حقوق کے علاوہ بھی کچھ حقوق ہیں۔ یہ حقوق وہ ہیں جن کو آدمی کا تقویٰ اس کو محسوس کراتاہے۔ اور آدمی کا متقیانہ احساس جتنا شدید ہو اتنا ہی زیادہ وہ اس کو اپنے اوپر لازم سمجھتا ہے۔ اندر کا یہ زوراگر موجود نہ ہو تو آدمی کبھی صحیح طورپر د وسروں کے حقوق ادا نہیں کرسکتا۔