Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَٱلَّذِينَ يُتَوَفَّوۡنَ مِنكُمۡ وَيَذَرُونَ أَزۡوَٰجٗا يَتَرَبَّصۡنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرۡبَعَةَ أَشۡهُرٖ وَعَشۡرٗاۖ فَإِذَا بَلَغۡنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيمَا فَعَلۡنَ فِيٓ أَنفُسِهِنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
تم میں سے جو لوگ مر جائیں، اُن کے پیچھے اگر اُن کی بیویاں زندہ ہوں، تو وہ اپنے آپ کو چار مہینے، دس دن روکے رکھیں پھر جب ان کی عدت پوری ہو جائے، تو انہیں اختیار ہے، اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے جو چاہیں، کریں تم پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں اللہ تم سب کے اعمال سے باخبر ہے
English (Sahih International)
And those who are taken in death among you and leave wives behind - they, [the wives, shall] wait four months and ten [days]. And when they have fulfilled their term, then there is no blame upon you for what they do with themselves in an acceptable manner. And Allah is [fully] Acquainted with what you do
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 234 وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّعَشْرًاج قبل ازیں آیت 228 میں مطلقہ عورت کی عدت تین حیض بیان ہوئی ہے۔ یہاں بیوہ عورتوں کی ‘ عدت بیان کی جا رہی ہے کہ وہ شوہر کی وفات کے چار ماہ دس دن بعد تک اپنے آپ کو شادی سے روکے رکھیں۔فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْ اَنْفُسِہِنَّ بالْمَعْرُوْفِ ط عدت گزار چکنے کے بعد وہ آزاد ہیں ‘ جہاں مناسب سمجھیں نکاح کرسکتی ہیں۔ اب تم انہیں روکنا چاہو کہ ہماری ناک کٹ جائے گی ‘ یہ بیوہ ہو کر صبر سے بیٹھ نہیں سکی ‘ اس سے رہا نہیں گیا ‘ اس طرح کی باتیں بالکل غلط ہیں ‘ اب تمہارا کوئی اختیار نہیں کہ تم انہیں روکو۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 234 to 237.
نکاح اور طلاق کے قوانین بیان کرتے ہوئے بار بار تقویٰ اور احسان کی تلقین کی جارہی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی حکم کو اس کی اصلی روح کے ساتھ زیرِ عمل لانے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ کے افراد خالص قانونی معاملہ کرنے والے نہ ہوں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کا جذبہ رکھتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کو یہ کھٹکا لگا ہوا ہو کہ دوسرے کے ساتھ بہتر سلوک نہ کرنا خود اپنے بارے میں بہتر سلوک نہ کيے جانے کا خطرہ مول لینا ہے۔ کیوں کہ بالآخر سارا معاملہ خدا کے یہاں پیش ہونا ہے اور وہاں نہ لفظی تاویلیں کسی کے کام آئیں گی اور نہ کسی کے لیے یہ ممکن ہوگا کہ وہ معاملہ سے متعلق کسی بات کو چھپا سکے۔
اگر نکاح کے وقت عورت کا مہر مقرر ہوا اور تعلق قائم ہونے سے پہلے طلاق ہوگئی تو باعتبار قانون آدھا مہر دینا لازم کیا گیا ہے۔ مگر خیرخواہی کا تقاضا ہے کہ دونوں فريق اس معاملہ میں قانونی برتاؤ کے بجائے فیاضانہ برتاؤ كا طريقه اختيار كرنا چاهيں۔ عورت کے اندر یہ مزاج ہو کہ جب تعلق قائم نہیں ہوا تو میں آدھا مہر بھی چھوڑ دوں۔ مرد کے اندر یہ جذبہ ابھرے کہ اگر چہ قانوناً میرے اوپر صرف آدھے کی ذمہ داری ہے مگر فیاضی کا تقاضا ہے کہ میں پورا کا پورا ادا کردوں— فیاضی اور وسعتِ ظرف کا یہی مزاج تمام معاملات میں مطلوب ہے۔ وہی معاشرہ مسلم معاشرہ ہے جس کے افراد کا یہ حال ہو کہ ہر ایک دوسرے کو دینا چاہے، نہ یہ کہ ہر ایک دوسرے سے لینے کا حریص بنا ہوا ہو۔ مزید یہ کہ وسعتِ ظرف کا یہ معاملہ دشمنی کے وقت بھی ہو، نہ کہ صرف دوستی کے وقت۔