Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 2:220 Prev 2:218


Arabic

۞يَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡخَمۡرِ وَٱلۡمَيۡسِرِۖ قُلۡ فِيهِمَآ إِثۡمٞ كَبِيرٞ وَمَنَٰفِعُ لِلنَّاسِ وَإِثۡمُهُمَآ أَكۡبَرُ مِن نَّفۡعِهِمَاۗ وَيَسۡـَٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَۖ قُلِ ٱلۡعَفۡوَۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَتَفَكَّرُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

پوچھتے ہیں: شراب اور جوئے کا کیا حکم ہے؟ کہو: ان دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے اگرچہ ان میں لوگوں کے لیے کچھ منافع بھی ہیں، مگر ان کا گناہ اُن کے فائدے سے بہت زیادہ ہے پوچھتے ہیں: ہم راہ خدا میں کیا خرچ کریں؟ کہو: جو کچھ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو اس طرح اللہ تمہارے لیے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے، شاید کہ تم دنیا اور آخرت دونوں کی فکر کرو


English (Sahih International)

They ask you about wine and gambling. Say, “In them is great sin and [yet, some] benefit for people. But their sin is greater than their benefit.” And they ask you what they should spend. Say, “The excess [beyond needs].” Thus Allah makes clear to you the verses [of revelation] that you might give thought


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 219 یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ ط ان احکام سے شریعت کا ابتدائی خاکہ blue print تیار ہونا شروع ہوگیا ہے ‘ کچھ احکام پہلے آ چکے ہیں اور کچھ اب آ رہے ہیں۔ شراب اور جوئے کے بارے میں یہاں ابتدائی حکم بیان ہوا ہے اور اس پر محض اظہار ناراضگی فرمایا گیا ہے۔قُلْ فِیْہِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَمَنَافِعُ للنَّاسِز وَاِثْمُہُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِہِمَا ط۔ یعنی اشارہ کردیا گیا کہ ان کو چھوڑ دو۔ اب معاملہ تمہاری عقل سلیم کے حوالے ہے ‘ حقیقت تم پر کھول دی گئی ہے۔ یہ ابتدائی حکم ہے ‘ لیکن حکم کے پیرائے میں نہیں۔ بس واضح کردیا گیا کہ ان کا گناہ ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے ‘ اگرچہ ان میں لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں۔ بقول غالب : ؂مے سے غرض نشاط ہے کس روسیاہ کو ؟اِک گونہ بےخودی مجھے دن رات چاہیے !اور : ؂ میں میکدے کی راہ سے ہو کر گزر گیا ورنہ سفر حیات کا بیحد طویل تھا !یہ حکمت سمجھ لیجیے کہ شراب اور جوئے میں کیا چیز مشترک ہے کہ یہاں دونوں کو جمع کیا گیا ؟ شراب کے نشے میں بھی انسان اپنے آپ کو حقائق سے منقطع کرتا ہے اور محنت سے جی چراتا ہے۔ وہ زندگی کے تلخ حقائق کا مواجہہ کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ ع اِک گونہ بےخودی مجھے دن رات چاہیے !۔۔ اور جوئے کی بنیاد بھی محنت کی نفی پر ہے۔ ایکّ رویہ تو یہ ہے کہ محنت سے ایک آدمی کما رہا ہے ‘ مشقت کر رہا ہے ‘ کوئی کھوکھا ‘ چھابڑی یا ریڑھی لگا کر کچھ کمائی کر رہا ہے ‘ جبکہ ایک ہے چانس اور داؤ کی بنیاد پر پیسے کمانا۔ یہ محنت کی نفی ہے۔ چناچہ شراب اور جوئے کے اندر اصل میں علت ایک ہی ہے۔ وَیَسْءَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ ط آیت 195 میں انفاق کا حکم بایں الفاظ آچکا ہے : وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ ج اور خرچ کرو اللہ کی راہ میں اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ جھونکو۔ تو سوال کیا گیا کہ کتنا خرچ کریں ؟ ہمیں کچھ مقدار بھی بتادی جائے۔ فرمایا :قُلِ الْعَفْوَ ط جو بھی تمہاری ضرورت سے زائد ہو۔ اللہ تعالیٰ کا یہ مطالبہ نہیں ہے کہ تم اپنی ضرورتوں کو پیچھے ڈال دو ‘ بلکہ تم پہلے اپنی ضرورتیں پوری کرو ‘ پھر جو تمہارے پاس بچ جائے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دو۔ کمیونزم کے فلسفہ میں ایک اصطلاح قدر زائد surplus value استعمال ہوتی ہے۔ یہ ہے اَلْعَفْوَ۔ جو بھی تمہاری ضروریات سے زائد ہے یہ surplus value ہے ‘ اسے اللہ کی راہ میں دے دو۔ اس کو بچا کر رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اللہ پر بےاعتمادی کا اظہار کرر ہے ہیں کہ اللہ نے آج تو دے دیا ہے ‘ کل نہیں دے گا۔ لیکن یہ کہ انسان کی ضرورتیں کیا ہیں ‘ کتنی ہیں ‘ اس کا اللہ نے کوئی پیمانہ مقرر نہیں کیا۔ اس کا تعلق باطنی روح سے ہے۔ ایک مسلمان کے اندر اللہ کی محبت اور آخرت پر ایمان جوں جوں بڑھتا جائے گا اتنا ہی وہ اپنی ضرورتیں کم کرے گا ‘ اپنے معیارِزندگی کو پست کرے گا اور زیادہ سے زیادہ اللہ کی راہ میں دے گا۔ اصول یہ ہے کہ ہر شخص یہ دیکھے کہ جو میری ضرورت سے زائد ہے اسے میں بچا بچا کر نہ رکھوں ‘ بلکہ اللہ کی راہ میں دے دوں۔ انفاق فی سبیل اللہ پر اس سورة مبارکہ میں پورے دو رکوع آگے آنے والے ہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 219 and 220.

چند سوالات کا جواب دیتے ہوئے یہاں کچھ بنیادی اصول بتا ديے گئے ہیں (1)کسی چیز کا نقصان اگر اس کے نفع سے زیادہ ہوتو وہ قابل ترک ہے۔(2) اپنی واقعی ضرورت سے زیادہ جو مال ہو اس کو اللہ کی راہ میں دے دینا چاہيے۔ (3) باہمی معاملات میں ان طریقوں سے بچنا جو کسی بگاڑ کا سبب بن سکتے ہوں اور ان طریقوں کو اختیار کرنا جو اصلاح پیدا کرنے والے ہوں۔

شراب پی کر آدمی کو سرور حاصل ہوتا ہے۔ جوا کھیلنے والے کو کبھی محنت کے بغیر کافی دولت ہاتھ آجاتی ہے۔ اس اعتبار سے ان چیزوں میں نفع کا پہلو ہے۔ مگر دوسرے اعتبار سے ان کے اندر دینی اور اخلاقی نقصانات ہیں اور یہ نقصانات ان کے نفع سے بہت زیادہ ہیں۔ اس ليے ان سے منع کردیاگیا ۔ کسی چیز کو لینے یا نہ لینے کا یہی معیار زندگی کے دوسرے امور کے لیے بھی ہے۔ مثلاً وہ تمام سیاسی اور غیر سیاسی سرگرمیاں، وہ تمام تقریبات اور جلسے قابل ترک ہیں جن کے بارے میں دینی اور اقتصادی جائزہ بتائے کہ ان میں نفع کم ہے او رنقصان زیادہ۔

مسلمان وہ ہے جو آخرت کو اپنی منزل بنائے، جو اس تڑپ کے ساتھ اپنی صبح وشام کررہا ہو کہ اس کا خدا اس سے راضی ہو جائے۔ ایسے شخص کے لیے دنیا کا سازوسامان زندگی کی ضرورت ہے، نہ کہ زندگی کا مقصد۔ وہ مال حاصل کرتاہے، وہ دنیا کے کاموں میں مشغول ہوتاہے۔ مگر یہ سب کچھ اس کے لیے حاجت اور ضرورت کے درجہ میں ہوتا ہے، نہ کہ مقصد کے درجہ میں۔ اس کے اثاثہ کی جو چیز اس کی حقیقی ضرورت سے زیادہ ہو، اس کا بہترین مصرف اس کے نزدیک یہ ہوتا ہے کہ و ہ اس کو اپنے رب کی راہ میں دے دے، تاکہ وہ اس سے راضی ہو اور اس کو اپنی رحمتوں کے سایہ میں جگہ دے۔ اس کی ہر چیز بقدر حاجت اپنے ليے ہوتی ہے اور حاجت سے جو زیادہ ہو وہ دین کے ليے۔

باہمی معاملات اور کاروبار کے اکثر مسائل اتنے پیچیدہ ہوتے ہیں کہ ان کے بارے میں صرف بنیادی ہدایات دی جاسکتی ہیں۔ ان کی تمام عملی تفصیلات کو قانون کے الفاظ میں متعین نہیں کیا جاسکتا۔ اس سلسلے میں یہ اصول مقرر کردیا گیا کہ اپنی نیت کو درست رکھو اور جو کارر وائی کرو یہ سوچ کر کرو کہ وہ کسی بگاڑ کا سبب نہ بنے۔ بلکہ صاحب معاملہ کے حق میں بہتری پیدا کرنے والی ہو۔ اگر تم دوسرے کو اپنا بھائی سمجھتے ہوئے اس کے مصالح کی پوری رعایت رکھو گے اور تمھارا مقصود صرف اصلاح و درستگی ہوگا تو اللہ کے یہاں تمھاری پکڑ نہیں۔


Connections

  • Previous: 2_218
  • Next: 2_220
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes