Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يَسۡـَٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَۖ قُلۡ مَآ أَنفَقۡتُم مِّنۡ خَيۡرٖ فَلِلۡوَٰلِدَيۡنِ وَٱلۡأَقۡرَبِينَ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِۗ وَمَا تَفۡعَلُواْ مِنۡ خَيۡرٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم کیا خرچ کریں؟ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر، رشتے داروں پر، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو اور جو بھلائی بھی تم کرو گے، اللہ اس سے باخبر ہوگا
English (Sahih International)
They ask you, [O Muhammad], what they should spend. Say, “Whatever you spend of good is [to be] for parents and relatives and orphans and the needy and the traveler. And whatever you do of good - indeed, Allah is Knowing of it
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 215 یَسْءَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ ط یعنی انفاق کے لیے جو کہا جا رہا ہے تو ہم کیا خرچ کریں ؟ کتنا خرچ کریں ؟ انسان بھلائی کے لیے جو بھی خرچ کرے تو اس میں سب سے پہلا حق کن کا ہے ؟قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ ط سب سے پہلا حق والدین کا ہے ‘ اس کے بعد درجہ بدرجہ قرابت داروں ‘ یتیموں ‘ مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے۔وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ تم جو بھی اچھا کام کرو گے تو جان لو کہ وہ اللہ کے علم میں ہے۔ ضرورت نہیں ہے کہ دنیا اس سے واقف ہو ‘ تمہیں اگر اللہ سے اجر لینا ہے تو وہ تورات کے اندھیرے میں بھی دیکھ رہا ہے۔ اگر تمہارے دائیں ہاتھ نے دیا ہے اور بائیں کو پتا نہیں چلا تو اللہ کو تو پھر بھی پتا چل گیا ہے۔ تو تم خاطر جمع رکھو ‘ تمہاری ہر نیکی اللہ کے علم میں ہے اور وہ اسے ضائع نہیں کرے گا۔ اب اگلی آیت میں قتال کے مضمون کا تسلسل ہے۔ میں نے سورة البقرۃ کے نصف آخر کے مضامین کو چار مختلف رنگوں کی لڑیوں سے تشبیہہ دی تھی ‘ جن کو باہم بٹ لیا جائے تو چاروں رنگ کٹے پھٹے نظر آتے ہیں اور اگر انہیں کھول دیا جائے تو ہر رنگ مسلسل نظر آتا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 215 and 216.
انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس کے جان اور مال کے استعمال کا بہترین مصرف اس کے بیوی بچے ہیں۔ وہ اپنے اثاثہ کو اپنے ذاتی حوصلوں اور تمناؤں میں لٹا کر خوش ہوتاہے۔ اس کے برعکس شریعت یہ کہتی ہے کہ اپنے جان اور مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ یہ دونوں مدیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ایک خود اپنے اوپر خرچ کرنا ہے اور دوسرا غیروں کے اوپر۔ ایک اپنی طاقت کو دنیا کی ظاہری چیزوں کے حصول پرلگانا ہے اور دوسرا آخرت کی نظر نہ آنے والی چیزوں پر۔ مگر انسان کو جو چیز ناپسند ہے وہی اللہ کی نظر میں بھلائی ہے۔ کیوں کہ وہ اس کی اگلی وسیع تر زندگی میں اس کو نفع دینے والی ہے۔ اور انسان کو جو چیز پسند ہے وہ اللہ کی نظر میں برائی ہے۔ کیوں کہ اس کا جو کچھ فائدہ ہے اسی عارضی دنیا میں ہے، آخرت میں اس سے کسی کو کچھ ملنے والا نہیں۔
یہی اصول زندگی کے تمام معاملات کے لیے صحیح ہے — آدمی آزاد اور بے قید زندگی کو پسند کرتاہے، حالاں کہ اس کی بھلائی اس میں ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کی رسی میں باندھ کر رکھے۔ آدمی اپنی تعریف کرنے والے کو دوست بناتا ہے، حالاں کہ اس کے لیے زیادہ بہتر یہ ہے کہ وہ اس شخص کو اپنا دوست بنائے جو اس کی غلطیوں کو اسے بتاتا ہو۔ آدمی ایک حق کو ماننے سے انکار کرتاہے اور خوش ہوتا ہے کہ اس طرح اس نے لوگوں کی نظر میں اپنے وقار کو بچا لیا۔ حالاں کہ اس کے لیے زیادہ بہتر یہ تھا کہ وہ اپنی عزت کو خطرہ میں ڈال کر کھلے دل سے حق کا اعتراف کر لے۔ آدمی محنت اور قربانی والے دین سے بے رغبت رہتاہے اور اس دین کو لے لیتاہے جس میں معمولی باتوں پر جنت کی خوش خبری مل رہی ہو۔ حالاں کہ اس کے لیے زیادہ بہتر تھا کہ وہ محنت اور قربانی والے دین کو اختیار کرتا۔ آدمی ’’زندگی‘‘ کے مسائل کو اہمیت دیتاہے، حالاں کہ زیادہ بڑی عقل مندی یہ ہے کہ آدمی ’’موت‘‘ کے مسائل کو اہمیت دے۔
’’اللہ جانتا ہے ، تم نہیں جانتے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ان سطحی جذبات و محرکات سے بلند ہے جن سے بلند نہ ہونے کی وجہ سے انسان کی رائے متاثر رائے بن جاتی ہے ۔ وہ صحیح رُخ کو چھوڑ کر غلط رخ کی طرف مڑ جاتا ہے۔ اللہ کا فیصلہ ہر قسم کی غیر متعلق چیزوں کی ملاوٹ سے پاک ہے ۔ اس كا فيصله بے آمیز فیصلہ ہے۔ اس ليے اس کے برحق ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ انسان کے فیصلے طرح طرح کی نفسیاتی پیچیدگیوں سے مغلوب رہتے ہیں۔ وہ پست محرکات کے زیر اثر رائیں قائم کرتا ہے، اس ليے انسان کی رائے اکثر اوقات نہ مبنی برحق ہوتی ہے اور نہ مطابق واقعہ۔ خدا جو کہے اسی کو تم حق سمجھو اور اس کے مقابلہ میں اپنے خیال کو چھوڑ دو۔