Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَإِذَا قِيلَ لَهُ ٱتَّقِ ٱللَّهَ أَخَذَتۡهُ ٱلۡعِزَّةُ بِٱلۡإِثۡمِۚ فَحَسۡبُهُۥ جَهَنَّمُۖ وَلَبِئۡسَ ٱلۡمِهَادُ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر، تو اپنے وقار کا خیال اُس کو گناہ پر جما دیتا ہے ایسے شخص کے لیے تو بس جہنم ہی کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے
English (Sahih International)
And when it is said to him, “Fear Allah,” pride in the sin takes hold of him. Sufficient for him is Hellfire, and how wretched is the resting place
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 206 وَاِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بالْاِثْمِ جب ایسے شخص سے کہا جاتا ہے کہ تم اللہ کا خوف کرو ‘ اللہ سے ڈرو ‘ تم باتیں ایسی خوبصورت کرتے ہو اور عمل تمہارا اتنا گھناؤنا ہے ‘ ذرا سوچو تو سہی ‘ تو اس کو اپنی جھوٹی انا اور عزت نفس گناہ پر اور جما دیتی ہے۔ ایک شخص وہ ہوتا ہے جس سے خطا ہوگئی تو اس نے اپنی غلطی تسلیم کرلی اور اپنی اصلاح کرلی۔ جبکہ ایک شخص وہ ہے جس کا طرزعمل یہ ہوتا ہے کہ میں کیسے مان لوں کہ میری غلطی ہے ؟ اس کی جھوٹی انا اور جھوٹی عزت نفس اسے گناہ سے ہٹنے نہیں دیتی بلکہ مزید آمادہ کرتی ہے۔ فَحَسْبُہٗ جَہَنَّمُ ط سو اس کے لیے جہنم کافی ہے۔ وَلَبِءْسَ الْمِہَادُ روایات میں آتا ہے کہ منافقین مدینہ میں ایک شخص اخنس بن شریق تھا ‘ یہ اس کا کردار بیان ہوا ہے۔ شان نزول کے اعتبار سے یہ بات ٹھیک ہے اور تاویل خاص میں اس کو بھی سامنے رکھا جائے گا ‘ لیکن درحقیقت یہ ایک کردار ہے جو آپ کو ہر جگہ ملے گا۔ اصل میں اس کردار کو پہچاننا چاہیے اور اس کے حوالے سے اللہ تعالیٰ سے ہدایت طلب کرنی چاہیے کہ اس کردار سے اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حفظ وامان میں رکھے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 2:204.