Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
مَثَلُهُمۡ كَمَثَلِ ٱلَّذِي ٱسۡتَوۡقَدَ نَارٗا فَلَمَّآ أَضَآءَتۡ مَا حَوۡلَهُۥ ذَهَبَ ٱللَّهُ بِنُورِهِمۡ وَتَرَكَهُمۡ فِي ظُلُمَٰتٖ لَّا يُبۡصِرُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اِن کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب اُس نے سارے ماحول کو روشن کر دیا تو اللہ نے اِن کا نور بصارت سلب کر لیا اور انہیں اس حال میں چھوڑ دیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا
English (Sahih International)
Their example is that of one who kindled a fire, but when it illuminated what was around him, Allah took away their light and left them in darkness [so] they could not see
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 17 مَثَلُھُمْ کَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا ج یہاں ایک شب تاریک کا نقشہ کھینچا جا رہا ہے۔ علامہ اقبال کے الفاظ میں اندھیری شب ہے جدا اپنے قافلے سے ہے تو ترے لیے ہے مرا شعلۂ نوا قندیل !اندھیری شب ہے۔ قافلہ بھٹک رہا ہے۔ کچھ لوگ بڑی ہمت کرتے ہیں کہ اندھیرے میں بھی ادھر ادھر سے لکڑیاں جمع کرتے ہیں اور آگ روشن کردیتے ہیں۔ لیکن عین اس وقت جب آگ روشن ہوتی ہے تو کچھ لوگوں کی بینائی سلب ہوجاتی ہے۔ پہلے وہ اندھیرے میں اس لیے تھے کہ خارج میں روشنی نہیں تھی۔ اب بھی وہ اندھیرے ہی میں رہ گئے کہ خارج میں تو روشنی آگئی مگر ان کے اندر کی روشنی گل ہوگئی ‘ ان کی بصارت سلب ہوگئی۔ یہ مثال ہے ان کفار کی جو اسلام کی روشنی پھیلنے کے باوجود اس سے محروم رہے ‘ محمد رسول اللہ ﷺ کی آمد سے پہلے ہر سو تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ کوئی حقیقت واضح نہیں تھی۔ قافلۂ انسانیت اندھیری شب میں بھٹک رہا تھا۔ محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور انہوں نے آگ روشن کردی۔ اس طرح ہدایت واضح ہوگئی۔ لیکن کچھ ضد ‘ تعصب ‘ تکبرّ یا حسد کی بنیاد پر کچھ لوگوں کی اندر کی بینائی زائل ہوگئی۔ چناچہ وہ تو ویسے کے ویسے بھٹک رہے ہیں۔ جیسے پہلے اندھیرے میں تھے ویسے ہی اب بھی اندھیرے میں ہیں۔ روشنی میں آنے والے تو وہ ہیں جن کا ذکر سب سے پہلے ”المُتّقین“ کے نام سے ہوا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 17 to 20.
کسی کمرے میں کالی اور سفید چیزیں ہوں تو جب تک اندھیرا ہے وہ اندھیرے میں گم رہیں گی۔ مگر روشنی جلاتے ہی کالی چیز کالی اور سفید چیز سفید دکھائی دینے لگے گی۔ یہی حال اللہ کی طرف سے اٹھنے والی دعوتِ نبوت کا ہے۔ یہ خدائی روشنی جب ظاہر ہوتی ہے تو اس کے اجالے میں ہدایت اور ضلالت صاف صاف دکھائی دینے لگتی ہیں۔ نیک عمل کیا ہے اور اس کے ثمرات کیا ہیں، برا عمل کیا ہے اور اس کے ثمرات کیا ہیں، سب کھل کر ٹھیک ٹھیک سامنے آجاتا ہے۔ مگر جو لوگ اپنے آپ کو حق کے تابع کرنے کے بجائے حق کو اپنا تابع بنائے ہوئے تھے، وہ اس صورت حال کو دیکھ کر گھبرا اٹھتے ہیں۔ ان کا چھپا ہوا حسد اور گھمنڈ زندہ ہوکر ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ خدائی آئینہ میںاپنا چہرہ دیکھتے ہی ان کی منفی نفسیات ابھر آتی ہیں۔ ان کے اندرونی تعصبات ان کے حواس پر اس طرح چھا جاتے ہیں کہ آنکھ، کان، زبان رکھتے ہوئے بھی وہ ایسے ہوجاتے ہیں گویا کہ وہ اندھے ہیں، وہ بہرے ہیں، وہ گونگے ہیں۔ اب وہ نہ تو کسی پکارنے والےکی پکار کو سن سکتے ہیں، نہ اس کی پکار کا جواب دے سکتے ہیں، نہ کسی قسم کی نشانی سے رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ ان کے لیے صحیح رویہ یہ تھا کہ پکارنے والے کی پکار پر غور کرتے، مگر اس کے بجائے انھوں نے اس سے بچنے کا سادہ سا علاج یہ دریافت کیا ہے کہ اس کی بات کو سرے سے سنا ہی نہ جائے، اس کو کوئی اہمیت ہی نہ دی جائے۔
اسی طرح ایک اور نفسیات ہے جو حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ یہ ڈر کی نفسیات ہے۔ بارش اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ مگر بارش جب آتی ہے تو اپنے ساتھ کڑک اور گرج بھی لے آتی ہے جس سے کمزور لوگ ہیبت کھا جاتے ہیں۔ اسی طرح جب اللہ کی طرف سے حق کی دعوت اٹھتی ہے تو ایک طرف اگر وہ انسانوں کے لیے عظیم کامرانیوں کا امکان کھولتی ہے تو دوسری طرف اس میں کچھ وقتی اندیشے بھی دکھائی دیتے ہیں— اس کو مان لینے کی صورت میں اپنی بڑائی کا خاتمہ، زندگی کے بنے بنائے نقشے کو بدلنے کی ضرورت، رواجی ڈھانچہ سے ٹکراؤ کے مسائل، آخرت کے بارے میں خوش خیالیوں کے بجائے حقائق پر بھروسہ کرنا۔ اس قسم کے اندیشوں کو دیکھ کر وہ کبھی رک جاتے ہیں اور کبھی تذبذب کے ساتھ چند قدم آگے بڑھتے ہیں۔ مگر یہ احتیاطیں ان کے کچھ بھی کام آنے والی نہیں ہیں۔ کیوں کہ خدائی پکار کے لیے اپنے کوکھلے دل سے پیش نہ کرکے وہ زیادہ شدید طورپر اپنے کوخدا کی نظر میں قابل سزا بنا رہے ہیں۔