Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱسۡتَعِينُواْ بِٱلصَّبۡرِ وَٱلصَّلَوٰةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّـٰبِرِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، صبر اور نماز سے مدد لو اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
English (Sahih International)
O you who have believed, seek help through patience and prayer. Indeed, Allah is with the patient
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
سورة البقرۃ کے انیسویں رکوع سے اب امت مسلمہ سے براہ راست خطاب ہے۔ اس سے قبل اس امت کی غرض تأسیس بایں الفاظ بیان کی جا چکی ہے : لِتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا ط آیت 143 ”تاکہ تم لوگوں پر گواہی دینے والے بنو اور رسول ﷺ تم پر گواہی دینے والا بنے“۔ گویا اب تم ہمیشہ ہمیش کے لیے ٌ محمد رسول اللہ ﷺ اور نوع انسانی کے درمیان واسطہ ہو۔ ایک حدیث میں علماء حق کے بارے میں فرمایا گیا ہے : اِنَّ الْعُلَمَاءَ ھُمْ وَرَثَۃُ الْاَنْبِیَاءِ 17 ”یقیناً علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں“۔ اس لیے کہ اب نبوت تو ختم ہوگئی خاتم المرسلینٌ محمد رسول اللہ ﷺ ‘ پر ‘ لیکن یہ آخری کتاب قیامت تک رہے گی ‘ اس کو پہنچانا ہے ‘ اس کو عام کرنا ہے ‘ اور صرف تبلیغ سے نہیں عمل کر کے دکھانا ہے۔ وہ نظام عملاً قائم کر کے دکھانا ہے جو محمد عربی ﷺ نے قائم کیا تھا ‘ تب حجت قائم ہوگی۔ اس کے لیے تمہیں قربانیاں دینی ہوں گی ‘ مشکلات جھیلنی ہوں گی ‘ جان و مال کا نقصان برداشت کرنا ہوگا۔ آرام سے گھر بیٹھے ‘ ٹھنڈے پیٹوں حق نہیں آجائے گا ‘ کفر اس طرح جگہ نہیں چھوڑے گا۔ کفر کو ہٹانے کے لیے ‘ باطل کو ختم کرنے کے لیے اور حق کو قائم کرنے کے لیے تمہیں تن من دھن لگانے ہوں گے۔ چناچہ اب پکار آرہی ہے :آیت 153 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ط پانچویں رکوع کی سات آیات کو میں نے بنی اسرائیل سے خطاب کے ضمن میں بمنزلۂ فاتحہ قرار دیا تھا۔ وہاں پر یہ الفاظ آئے تھے : وَاسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ط وَاِنَّہَا لَکَبِیْرَۃٌ الاَّ عَلَی الْخٰشِعِیْنَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّہِمْ وَاَنَّہُمْ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ”اور مدد چاہو صبر اور نماز سے ‘ اور یقیناً یہ بھاری چیز ہے مگر ان لوگوں کے لیے جو ڈرنے والے ہیں ‘ جو گمان رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں اور وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اب یہی بات اہل ایمان سے کہی جا رہی ہے۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ”اللہ تعالیٰ کی معیتّ سے کیا مراد ہے ! ایک بات تو متفق علیہ ہے کہ اللہ کی مدد ‘ اللہ کی تائید ‘ اللہ کی نصرت ان کے شامل حال ہے۔ باقی یہ کہ جہاں کہیں بھی ہم ہیں اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ اس کی کیفیت ہم نہیں جانتے ‘ لیکن خود اس کا فرمان ہے کہ ”ہم تو انسان سے اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ قٓ: 16
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 153 to 157.
دین یہ ہے کہ آدمی اپنے خالق کو اس طرح پالے کہ اس کی یاد میں اور اس کی شکر گزاری میں اس کے صبح و شام بسر ہونے لگیں۔ اس قسم کی زندگی ہی تمام خوشیوں اور لذتوں کا خزانہ ہے۔ مگر یہ خوشیاں اور لذتیں اپني حقیقی صورت میں آدمی کو صرف آخرت میں ملیں گی۔ موجودہ دنیا کو اللہ تعالیٰ نے انعام کے لیے نہیں بنایا بلکہ امتحان کے لیے بنایا ہے، یہاں ایسے حالات رکھے گئے ہیں کہ خداپرستی کی راہ میں آدمی کے لیے رکاوٹیں پڑیں تاکہ معلوم ہو کہ کون اپنے ايمان كے اظهار میں سنجیدہ ہے اور کون سنجیدہ نہیں — نفس کے محرکات، بیوی بچوں کے تقاضے، دنیا کی مصلحتیں، شیطان کے وسوسے، سماجی حالات کا دباؤ، وغيره۔ یہ چیزیں فتنہ کی صورت میں آدمی کو گھیرے رہتی ہیں۔ آدمی کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ ان فتنوں کو پہچانے اور ان سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے ذکر وشکر کے تقاضے پورا کرے۔
ان امتحانی مشکلات کے مقابلہ میں کامیابی کا واحد ذریعہ نماز اور صبر ہے۔ یعنی اللہ سے لپٹنا اور ہر قسم کی ناخوش گواریوں کو برداشت کرتے ہوئے بالارادہ حق کے راستہ پر جمے رہنا۔ جو لوگ نا موافق حالات سامنے آنے کے باوجود نہ بدکیں اور بظاہر غیر اللہ میں نفع دیکھتے ہوئے اللہ کے ساتھ اپنے کو باندھے رہیں وہی وہ لوگ ہیں جو سنتِ الٰہی کے مطابق کامیابی کی منزل تک پہنچیں گے۔
حق کی راہ میں مشکلات ومصائب کا دوسرا سبب مومن کا تبلیغی کردار ہے۔ تبلیغ ودعوت کا کام نصیحت اور تنقید کا کام ہے۔ اور نصیحت اور تنقید ہمیشہ آدمی کے لیے سب سے زیادہ ناپسنديده چیز رہی ہے، ان میں بھی نصیحت سننے کے لیے سب سے زیادہ حساس وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے دنیا کے کاروبار کو دین کے نام پر کررہے ہوں۔داعی کی ذات اور اس کے پیغام میں ایسے تمام لوگوں کو اپنی حیثیت کی نفی (negation)نظر آنے لگتی ہے۔ داعی کا وجود ایک ایسی ترازو بن جاتاہے جس پر ہر آدمی تُل رہا ہو۔ ا س کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ داعی بننا بھِڑ کے چھۃ میں ہاتھ ڈالنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ ایسا آدمی اپنے ماحول کے اندر بے جگہ کردیا جاتا ہے۔ اس کی معاشیات برباد ہوجاتی ہیں۔ اس کی ترقیوں کے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ حتی کہ اس کی جان تک خطرہ میں پڑجاتی ہے۔ مگر وہی آدمی راہ پر ہے جس کو بے راہ بتا کر ستایا جائے۔ وہی پاتا ہے جو اللہ کی راہ میں کھوئے۔ وہی جی رہا ہے جو اللہ کی راہ میں اپنی جان دے دے۔آخرت کی جنت اسی کے لیے ہے جو اللہ کی خاطر دنیا کی جنت سے محروم ہوگیا ہو۔