Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 2:128 Prev 2:126


Arabic

وَإِذۡ يَرۡفَعُ إِبۡرَٰهِـۧمُ ٱلۡقَوَاعِدَ مِنَ ٱلۡبَيۡتِ وَإِسۡمَٰعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّآۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور یاد کرو ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ جب اس گھر کی دیواریں اٹھا رہے تھے، تو دعا کرتے جاتے تھے: “اے ہمارے رب، ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے، تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے


English (Sahih International)

And [mention] when Abraham was raising the foundations of the House and [with him] Ishmael, [saying], “Our Lord, accept [this] from us. Indeed You are the Hearing, the Knowing


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 127 وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰہٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَاِسْمٰعِیْلُ ط۔ باپ بیٹا دونوں بیت اللہ کی تعمیر میں لگے ہوئے تھے۔ یہاں لفظ قَوَاعِدَ جو آیا ہے اسے نوٹ کیجیے ‘ یہ قاعدہ کی جمع ہے اور بنیادوں کو کہا جاتا ہے۔ اس لفظ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خانہ کعبہ کے اصل معمار اور بانی نہیں ہیں۔ کعبہ سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا۔ سورة آل عمران آیت 96 میں الفاظ آئے ہیں : اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ للنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ بیشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا یہی ہے جو مکہ میں ہے۔ اب یہ کیسے ممکن تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے لے کر حضرت ابراہیم علیہ السلام تک ‘ کم و بیش چار ہزار برس کے دوران ‘ روئے ارضی پر کوئی مسجد تعمیر نہ ہوئی ہو ؟ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے تعمیر کیا گیا سب سے پہلا گھر یہی کعبہ تھا۔ امتداد زمانہ سے اس کی صرف بنیادیں باقی رہ گئی تھیں ‘ اور چونکہ یہ وادی میں واقع تھا جو سیلاب کا راستہ تھا ‘ لہٰذا سیلاب کی وجہ سے اس کی سب دیواریں بہہ گئی تھیں۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما الصلوٰۃ والسلام نے ان بنیادوں کو پھر سے اٹھایا۔ سورة الحج میں یہ مضمون تفصیل سے آیا ہے۔جب وہ ان بنیادوں کو اٹھا رہے تھے تو اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ رہے تھے : رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ط۔ ہماری اس کوشش اور ہماری اس محنت و مشقت کو قبول فرما ! جس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کی تعمیر کر رہے تھے اس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر لگ بھگ تیرہ برس تھی ‘ آپ علیہ السلام اس کام میں اپنے والد محترم کا ہاتھ بٹا رہے تھے۔اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 127 to 129.

اللہ کا یہ فیصلہ تھا کہ وہ حجاز کو اسلام کی دعوت کا عالمی مرکز بنائے۔ اس مرکز کے قیام اور انتظام کے لیے حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد کا انتخاب ہوا۔ بیت اللہ کی تعمیر کے وقت حضرت ابراہیم ؑاور حضرت اسماعیل ؑ کی زبان سے جو کلمات نکل رہے تھے وہ ایک اعتبار سے دعا تھے اور دوسرے اعتبار سے وہ دو روحوں کا اپنے آپ کو اللہ کے منصوبے میں دے دینے کا اعلان تھا۔ ایسی دعا خود مطلوب الٰہی ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ پوری طرح قبول ہوئی۔ عرب کے خشک بیابان سے اسلام کا ابدی چشمہ پھوٹ نکلا۔ بنی اسماعیل کے دل اللہ تعالیٰ نے خصوصی طورپر اپنے دین کی خدمت کے لیے نرم کرديے۔ ان کے اندر سے ایک طاقت ور اسلامی دعوت برپا ہوئی۔ ان کے ذریعہ سے اللہ نے اپنے بندوں کو وہ طریقے بتائے جن سے وہ خوش ہوتا ہے اور اپنی رحمت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ پھر انھیں کے اندر سے اس آخری رسول کی بعثت ہوئی جس نے تاریخ میں پہلی بار یہ کیا کہ کار نبوت کو ایک مکمل تاریخی نمونہ کی صورت میں قائم کردیا۔

نبی کا پہلا کام تلاوت آیات ہے۔ آیت کے معنی نشانی کے ہیں۔ یعنی وہ چیز جو کسی چیز کے اوپر دلیل بنے۔ انسان کی فطرت میں اور باہر کی دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت کی بے شمار نشانیاں رکھ دی ہیں۔ یہ اشارات کی صورت میں ہیں۔ پیغمبر ان اشارات کو کھولتا ہے۔ وہ آدمی کو وہ نگاہ دیتا ہے جس سے وہ ہرچیز میں اپنے رب کا جلوہ دیکھنے لگے ۔ کتاب سے مراد قرآن ہے۔ نبی کا دوسرا کام یہ ہے کہ وہ اللہ کی وحی کا مہبط بنتا ہے اور اس کو خدا سے لے کر انسان تک پہنچاتا ہے۔ حکمت کا مطلب ہے بصیرت۔ جب آدمی خدا کی نشانیوں کو دیکھنے کی نظر پیدا کر لیتا ہے، جب وہ اپنے ذہن کو قرآن کی تعلیمات میں ڈھال لیتاہےتو اس کے اندر ایک فکری روشنی جل اٹھتی ہے ۔ وہ اپنے آپ کو حقیقت اعلیٰ کے ہم شعور بنالیتا ہے۔ وہ ہر معاملہ میں اس صحیح فیصلہ تک پہنچ جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔ تزکیہ کا مطلب ہے کسی چیز کو غیر موافق عناصر سے پاک کردینا تاکہ وہ موافق فضا میں اپنے فطری کمال کو پہنچ سکے۔ نبی کی آخری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ایسے انسان تیار ہوں جن کے سینے اللہ کی عقیدت کے سوا ہر عقیدت سے خالی ہوں۔ ایسی روحیں وجود میں آئیں جو نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہوں، ایسے افراد پیدا ہوں جو کائنات سے وہ ربانی رزق پاسکیں، جو اللہ نے اپنے مومن بندوں کے لیے رکھ دیا ہے۔


Connections

  • Previous: 2_126
  • Next: 2_128
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes