Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 2:121 Prev 2:119


Arabic

وَلَن تَرۡضَىٰ عَنكَ ٱلۡيَهُودُ وَلَا ٱلنَّصَٰرَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمۡۗ قُلۡ إِنَّ هُدَى ٱللَّهِ هُوَ ٱلۡهُدَىٰۗ وَلَئِنِ ٱتَّبَعۡتَ أَهۡوَآءَهُم بَعۡدَ ٱلَّذِي جَآءَكَ مِنَ ٱلۡعِلۡمِ مَا لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٍ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے، جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو صاف کہہ دوکہ راستہ بس وہی ہے، جو اللہ نے بتایا ہے ورنہ اگراُس علم کے بعد، جو تمہارے پاس آ چکا ہے، تم نے اُن کی خواہشات کی پیروی کی، تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مدد گار تمہارے لیے نہیں ہے


English (Sahih International)

And never will the Jews or the Christians approve of you until you follow their religion. Say, “Indeed, the guidance of Allah is the [only] guidance.” If you were to follow their desires after what has come to you of knowledge, you would have against Allah no protector or helper


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 120 وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ ط لہٰذا آپ ان سے امید منقطع کر لیجیے۔ اس لیے کہ زیادہ امید ہو تو پھر مایوسی ہوجاتی ہے۔ اقبال نے بندۂ مؤمن کے بارے میں بہت خوب کہا ہے : ع اس کی امیدیں قلیل ‘ اس کے مقاصد جلیل !مقصد اونچا ہو ‘ لیکن امید قلیل رہنی چاہیے۔ اللہ چاہے گا تو ہوجائے گا ‘ نہیں چاہے گا تو نہیں ہوگا۔ بندۂ مؤمن کا کام اپنی حد تک اپنا فرض ادا کردینا ہے۔ اس سے زیادہ کی خواہش اگر اپنے دل میں پالیں گے تو کسی عجلت پسندی میں گرفتار ہوجائیں گے اور کسی راہ یسیر یا راہ قصیر short cut کے ذریعے منزل تک پہنچنے کی کوشش کریں گے اور اپنے آپ کو بھی برباد کرلیں گے۔قُلْ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الْہُدٰی ط۔ جو اللہ نے بتلایا ہے وہی سیدھا راستہ ہے۔وَلَءِنِ اتَّبَعْتَ اَہْوَآءَ ‘ ہُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَ ‘ کَ مِنَ الْعِلْمِلا اگر بفرض محال آپ ﷺ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی کہ چلو کچھ لو کچھ دو کا معاملہ کرلو ‘ کچھ ان کی بات مانوکچھ اپنی بات منوا لو ‘ تو یہ طرز عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول نہ ہوگا۔ مکہ میں قریش کی طرف سے اس طرح کی پیشکش کی جاتی تھی کہ کچھ اپنی بات منوا لیجیے ‘ کچھ ہماری مان لیجیے ‘ compromise کرلیجیے ‘ اور اب مدینہ میں یہود کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔ چناچہ اس پر متنبہ کیا جا رہا ہے۔ ّ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلاَ نَصِیْرٍ معاذ اللہ ! حق کی تلوار بالکل عریاں ہے۔ اللہ کا عدل ہر فرد کے لیے الگ نہیں ہے ‘ یہ فرد سے فرد تک بدلتا نہیں ہے۔ ایسے ہی ہر قوم اور ہر امت کے لیے قانون تبدیل نہیں ہوتا۔ ایسا نہیں ہے کہ کسی ایک قوم سے کوئی ایک معاملہ ہو اور دوسری قوم سے کوئی دوسرا معاملہ۔ اللہ کے اصول اور قوانین غیر مبدل ہیں۔ اس ضمن میں اس کی ایک سنت ہے جس کے بارے میں فرمایا : فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًاج وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَحْوِیْلًا فاطر پس تم اللہ کے طریقے میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے ‘ اور تم اللہ کے طریقے کو ہرگز ٹلتا ہوا نہیں پاؤ گے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 2:118.


Connections

  • Previous: 2_119
  • Next: 2_121
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes