Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَقَالَتِ ٱلۡيَهُودُ لَيۡسَتِ ٱلنَّصَٰرَىٰ عَلَىٰ شَيۡءٖ وَقَالَتِ ٱلنَّصَٰرَىٰ لَيۡسَتِ ٱلۡيَهُودُ عَلَىٰ شَيۡءٖ وَهُمۡ يَتۡلُونَ ٱلۡكِتَٰبَۗ كَذَٰلِكَ قَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَ مِثۡلَ قَوۡلِهِمۡۚ فَٱللَّهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یہودی کہتے ہیں: عیسائیوں کے پاس کچھ نہیں عیسائی کہتے ہیں: یہودیوں کے پاس کچھ نہیں حالانکہ دونوں ہی کتاب پڑھتے ہیں اور اسی قسم کے دعوے ان لوگوں کے بھی ہیں، جن کے پاس کتاب کا علم نہیں ہے یہ اختلافات جن میں یہ لوگ مبتلا ہیں، ان کا فیصلہ اللہ قیامت کے روز کر دے گا
English (Sahih International)
The Jews say “The Christians have nothing [true] to stand on,” and the Christians say, “The Jews have nothing to stand on,” although they [both] recite the Scripture. Thus the polytheists speak the same as their words. But Allah will judge between them on the Day of Resurrection concerning that over which they used to differ
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 113 وَقَالَتِ الْیَہُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰی عَلٰی شَیْءٍ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے ‘ کوئی جڑ بنیاد نہیں ہے۔ وَّقَالَتِ النَّصٰرٰی لَیْسَتِ الْیَہُوْدُ عَلٰی شَیْءٍ ان کی کوئی بنیاد نہیں ہے ‘ یہ بےبنیاد لوگ ہیں ‘ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ وَّہُمْ یَتْلُوْنَ الْکِتٰبَ ط عہد نامۂ قدیم Old Testament یہودیوں اور عیسائیوں میں مشترک ہے۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے اور امریکہ میں جدید عیسائیت کی صورت میں ایک بہت بڑی طاقت جو ابھر رہی ہے وہ عیسائیت کو یہودیت کے رنگ میں رنگ رہی ہے۔ رومن کیتھولک مذہب نے تو بائبل سے اپنارشتہ توڑ لیا تھا اور سارا اختیار پوپ کے ہاتھ میں آگیا تھا ‘ لیکن پروٹسٹنٹس Protestants نے پھر بائبل کو قبول کیا۔ اب اس کی منطقی انتہا یہ ہے کہ عہۂ فامہ قدیم پر بھی ان کی توجہ ہو رہی ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ اسے بھی ہم اپنی کتاب مانتے ہیں اور اس میں جو کچھ لکھا ہے اسے ہم نظر انداز نہیں کرسکتے۔ امریکہ میں ہم نے ایک سیمینار منعقد کیا تھا ‘ جس میں ایک یہودی عالم نے کہا تھا کہ اس وقت اسرائیل کو سب سے بڑی نصرت و حمایت امریکہ کے ان عیسائیوں سے مل رہی ہے جو Evengelists کہلاتے ہیں اور وہاں پر ایک بڑا فرقہ بن کر ابھر رہے ہیں۔ بہرحال یہ ان کا طرز عمل بیان ہوا ہے۔ کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِہِمْ ج یہاں اشارہ ہے مشرکین مکہ کی طرف۔فَاللّٰہُ یَحْکُمُ بَیْنَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ اب دیکھئے ‘ اس سلسلۂ کلام کی بقیہ آیات میں بھی اگرچہ خطاب تو بنی اسرائیل ہی سے ہے ‘ لیکن اب یہاں پر اہل مکہ سے کچھ تعریض شروع ہوگئی ہے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ آئے گا ‘ پھر تحویل قبلہ کا ذکر آئے گا۔ بیت اللہ چونکہ اس وقت مشرکین مکہ کے قبضے میں تھا ‘ لہٰذا اس حوالے سے کچھ متعلقہ مضامین آ رہے ہیں اور تحویل قبلہ کی تمہید باندھی جا رہی ہے۔ تحویل قبلہ دراصل اس بات کی علامت تھی کہ اب وہ سابقہ امت مسلمہ معزول کی جا رہی ہے اور اس مقام پر ایک نئی امت ‘ امت محمد ﷺ کی تقرریّ عمل میں لائی جا رہی ہے۔ اسی حوالے سے کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِہِمْ ج کے الفاظ میں مشرکین مکہ کی طرف اشارہ کیا گیا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 113 to 117.
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت عرب میں تین بڑی قومیں آباد تھیں ، یہود، نصاری، اور مشرکین ۔یہود نے نبیوں اور بزرگوں سے وابستگی کو حق کا معیار بنایا۔ اس وجہ سے ان کو اپنی قوم حق پر اور دوسری قومیں باطل پر نظر آئیں ۔ نصاریٰ نے اپنے اندر یہ امتیاز دیکھا کہ اللہ نے اپنا ’’اکلوتا بیٹا‘‘ ان کے پاس بھیجا۔ مکہ کے مشرکین اپنی یہ خصوصیت سمجھتے تھے کہ وہ اللہ کے مقدس گھر کے پاسبان ہیں ۔ اس طرح ہر گروہ نے اپنے حسب حال حق وصداقت کا ایک خود ساختہ معیار بنا رکھا تھا اور جب وہ اس معیار کی روشنی میں دیکھتا تو لامحالہ اس کو اپنی ذات بر سر حق اور دوسروں کی برسر باطل نظر آتی۔ مگر ان کی عملی حالت جس چیز کا ثبوت دے رہی تھی وہ اس کے بالکل برعکس تھی۔ وہ گروہ گروہ بنے ہوئے تھے۔ ان میں سے کسی کو جب بھی موقع ملتا، وہ عبادت کے لیے بنے ہوئے خدا کے گھر کو اپنے گروہ کے علاوہ دوسرے گروہ پر بند کردیتا اور اس طرح خدا کے گھر کی ویرانی کا باعث بنتا۔ عبادت خانہ تووہ مقام ہے جہاں انسان اللہ سے ڈرتے ہوئے اور کانپتے ہوئے داخل ہو۔ اگر یہ لوگ واقعۃً خدا والے ہوتے تو کیسے ممکن تھا کہ وہ عبادت کے لیے آنے والے کسی بندے کو روکیں یا اس کو ستائیں ۔ وہ تو اللہ کی عظمت کے احساس سے دبے ہوئے ہوتے، پھر ان سے اس قسم کی سرکشی کا صدور کیوں کر ہوسکتا تھا۔
انھوں نے اللہ کو انسان کے اوپر قیاس کیا۔ ایک انسان اگر مشرق میں ہو تو اسی وقت وہ مغرب میں نہیں ہوگا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خدا بھی اسی طرح کسی خاص سمت میں موجود ہے۔ یقیناً اللہ نے اپنی عبادت کے لیے رخ کا تعین کیا ہے مگر وہ عبادت کی تنظیمی ضرورت کی بنا پر ہے، نہ اس ليے کہ خدا اسی خاص رخ میں ملتا ہے۔ اسی طرح انسانوں پر قیاس کرتے ہوئے انھوں نے خدا کا بیٹا فرض کرلیا ۔ حالاں کہ خدا اس قسم کی چیزوں سے بلند وبرتر ہے۔ جو لوگ اس طرح خود ساختہ دین کو خدا کا دین بتائیں، ان کے لیے خدا کے یہاں رسوائی اور عذاب کے سوا اور کچھ نہیں۔