Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَإِذَا قِيلَ لَهُمۡ لَا تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ قَالُوٓاْ إِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین پر فساد برپا نہ کرو تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں
English (Sahih International)
And when it is said to them, “Do not cause corruption on the earth,” they say, “We are but reformers
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 11 وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ لا اس سے مراد یہ ہے کہ جب تم نے محمد ﷺ کو اللہ کا رسول مان لیا تو اب ان کی ٹھیک ٹھیک پیروی کرو ‘ ان ﷺ کے پیچھے چلو۔ ان ﷺ کا حکم ہے تو جنگ کے لیے نکلو۔ ان ﷺ کی طرف سے تقاضا آتا ہے تو مال پیش کرو۔ اور اگر تم اس سے کتراتے ہو تو پھر جماعتی زندگی کے اندر فتنہ و فساد پھیلا رہے ہو۔قَالُوْآ اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ ہم تو صلح کرانے والے ہیں۔ ہماری نظر میں یہ لڑنا بھڑنا کوئی اچھی بات نہیں ہے ‘ ٹکراؤ اور تصادم کوئی اچھے کام تھوڑے ہی ہیں۔ بس لوگوں کو ٹھنڈے ٹھنڈے دعوت دیتے رہو ‘ جو چاہے قبول کرلے اور جو چاہے ردّ کر دے۔ یہ خواہ مخواہ دشمن سے ٹکرانا اور جنگ کرنا کس لیے ؟ اور اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے قربانیاں دینے ‘ مصیبتیں جھیلنے اور مشقتیں برداشت کرنے کے مطالبے کا ہے کے لیے ؟
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
خدا کی اس دنیا میں کامیابی صرف اس شخص کے ليے ہے جو صاحبِ ایمان ہو، جو کسی اور والا نہ ہو کر ایک اللہ والا بن جائے۔ جس کی زندگی اندر سے باہر تک ایمان میں ڈھل گئی ہو۔
جب کسی شخص کو ایمان ملتاہے تو یہ سادہ سی بات نہیں ہوتی۔ یہ اس کی زندگی میںایک انقلاب آنے کے ہم معنی ہوتاہے۔ اب وہ اللہ کی عبادت کرنے والا اور اس کے آگے جھکنے والا بن جاتا ہے۔ اس کی سنجیدگی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ بے فائدہ مشاغل میں وقت ضائع کرنا اس کو ہلاکت معلوم ہونے لگتا ہے۔ وہ اپنی کمائی کا ایک حصہ خدا کے نام پر نکالتا ہے۔ اور اس سے ضرورت مندوں کی مدد کرتاہے۔ وہ اپنی شہوانی خواہشات کو کنٹرول میں رکھنے والا بن جاتا ہے۔ اور اس کو انھیں حد ود کے اندر استعمال کرتا ہے جو خدا نے اس کے ليے مقرر کردی ہیں۔ وہ دنیا میں ایک ذمہ دار آدمی کی طرح زندگی گزارتا ہے۔ دوسرے کی امانت میں وہ کبھی خیانت نہیں کرتا۔ کسی سے جب وہ کوئی عہد کرلیتا ہے تو وہ کبھی اس کے خلاف نہیںجاتا۔
جن لوگوں کے اندر یہ خصوصیات ہوں وہ اللہ کے مطلوب بندے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے ليے خدا نے جنت الفردوس کی معیاری دنیا تیار کر رکھی ہے۔ موت کے بعد وہ اس کی فضا میں داخل کردئے جائیں گے تاکہ ابدی طورپر اس کے اندر عیش کرتے رہیں۔