Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَقُولُواْ رَٰعِنَا وَقُولُواْ ٱنظُرۡنَا وَٱسۡمَعُواْۗ وَلِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو: رَاعِناَ نہ کہا کرو، بلکہ اُنظرنَا کہو اور توجہ سے بات کو سنو، یہ کافر تو عذاب الیم کے مستحق ہیں
English (Sahih International)
O you who have believed, say not [to Allah ‘s Messenger], “Ra’ina” but say, “Unthurna” and listen. And for the disbelievers is a painful punishment
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 104 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا ط قبل ازیں منافقین بنی اسرائیل کا ذکر ہوا تھا ‘ جن کا قول تھا : سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا۔ اب یہاں ان منافقین کا طرز عمل بیان ہو رہا ہے جو مسلمانوں میں شامل ہوگئے تھے اور یہود کے زیر اثر تھے۔ یہودی اور ان کے زیر اثر منافقین جب رسول اللہ ﷺ کی محفل میں بیٹھتے تھے تو اگر آپ ﷺ ‘ کی کوئی بات انہیں سنائی نہ دیتی یا سمجھ میں نہ آتی تو وہ راعِنَا کہتے تھے ‘ جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضور ﷺ ! ذرا ہماری رعایت کیجیے ‘ بات کو دوبارہ دہرا دیجیے ‘ ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ اہل ایمان بھی یہ لفظ استعمال کرنے لگے تھے۔ لیکن یہود اور منافقین اپنے خبث باطن کا اظہار اس طرح کرتے کہ اس لفظ کو زبان دباکر کہتے تو راعِیْنَا ہوجاتا یعنی اے ہمارے چرواہے ! اس پر دل ہی دل میں خوش ہوتے اور اس طرح اپنی خباثت نفس کو غذا مہیاّ کرتے۔ اگر کوئی ان کو ٹوک دیتا کہ یہ تم کیا کہہ رہے ہو تو جواب میں کہتے ہم نے تو راعِنَا کہا تھا ‘ معلوم ہوتا ہے آپ کی سماعت میں کوئی خلل پیدا ہوچکا ہے۔ چناچہ مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم اس لفظ ہی کو چھوڑ دو ‘ اس کی جگہ کہا کرو : اُنْظُرْنَا۔ یعنی اے نبی ﷺ ہماری طرف توجہ فرمایئے ! یا ہمیں مہلت دیجیے کہ ہم بات کو سمجھ لیں۔ اور دوسرے یہ کہ توجہ سے بات کو سنا کرو تاکہ دوبارہ پوچھنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
پیغمبروں کا انکار کرنے والوں کا جو انجام ہوا وہ گویا دنیا میں اس فیصلہ الٰہی کا جزئی ظہور تھا جو قیامت میں کلی طورپر تمام نوع انسانی کے لیے پیش آنے والا ہے۔قرآن اسی حقیقت کی ایک یاد دہانی ہے۔
دنیا میں آدمی جب حق کو نظر انداز کرتا ہے تو بظاہر یہ بہت ہلکی سی چیز معلوم ہوتی ہے۔ مگر آخرت میں آدمی کا یہ فعل اس کے لیے نہایت بھاری بوجھ بن جائے گا۔ جب خدائی بگل (صور) یہ اعلان کرے گا کہ امتحان کی مدت ختم ہوچکی۔اس وقت اچانک لوگ اپنے آپ کو ایک اور دنیا میں پائیں گے۔ جب آدمی پر یہ کھلے گا کہ جس دنیا کو وہ اپنی دنیا سمجھے ہوئے تھے، وہ دراصل خدا کی دنیا تھی تو اس پر اس قدر دہشت طاری ہوگی کہ اس کی ہیئت تک بدل جائے گی۔
موجودہ دنیا میں آدمی آخرت کو اس طرح نظر انداز کرتاہے جیسے وہ کوئی بہت دور کی چیز ہو۔ مگر قیامت آنے کے بعد آدمی کو ایسا معلوم ہوگا جیسے دنیا کی زندگی تو بس گنتی کے چند روز کی تھی۔ اس کے بعد ساری لمبی زندگی وہی تھی جو آخرت کے عالم میں گزرنے والی تھی۔