Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
الٓمٓ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
الف لام میم
English (Sahih International)
Alif, Lam, Meem
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
یہ حروف مقطعاتّ ہیں جن کے بارے میں یہ جان لیجیے کہ ان کے حقیقی ‘ حتمی اور یقینی مفہوم کو کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ اور اس کے رسول کے۔ یہ ایک راز ہے اللہ اور اس کے رسول کے مابین۔ حروف مقطعات کے بارے میں اگرچہ بہت سی آراء ظاہر کی گئی ہیں ‘ لیکن ان میں سے کوئی شے رسول اللہ سے منقول نہیں ہے۔ البتہ یہ بات ثابت ہے کہ اس طرح کے حروف مقطعات کا کلام میں استعمال عرب میں معروف تھا ‘ اس لیے کسی نے ان پر اعتراض نہیں کیا۔ قرآن مجید کی 114 میں سے 29 سورتیں ایسی ہیں جن کا آغاز حروف مقطعات سے ہوا ہے۔ سورة قٓ‘ سورة القلم اور سورة صٓ کے آغاز میں ایک ایک حرف ہے۔ حٰمٓ‘ طٰہٰ اور یٰسٓ دو دو حرف ہیں۔ ا ل م اور ا ل ر تین تین حروف ہیں جو کئی سورتوں کے آغاز میں آئے ہیں۔ الم اور الر چار چار حروف ہیں۔ حروف مقطعات میں زیادہ سے زیادہ پانچ حروف یکجا آتے ہیں۔ چناچہ کٓھٰیٰعٓصٓ سورة مریم کے آغاز میں اور حٰمٓ عٓسٓقٓ سورة الشوریٰ کے آغاز میں آئے ہیں۔ ان کے بارے میں اس وقت مجھے اس سے زائد کچھ عرض نہیں کرنا ہے۔ اپنے مفصل درس قرآن میں میں نے ان پر تفصیل سے بحثیں کی ہیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 1 to 5.
اس میں شک نہیں کہ قرآن ہدایت کی کتاب ہے۔ مگر وہ ہدایت کی کتاب اس کے لیے ہے جو فی الواقع ہدایت کو جاننے کے معاملہ میں سنجیدہ ہو، جو اس کی پروا اور کھٹک رکھتا ہو۔ سچی طلب جو فطرت کی زمین پر اگتی ہے وہ خود پانے ہی کا ایک آغاز ہوتا ہے۔ سچی طلب اور سچی یافت دونوں ایک ہی سفر کے پچھلے اور اگلے مرحلے ہیں۔ یہ گویا خود اپنی فطرت کے بند صفحات کو کھولناہے۔ جب آدمی اس کا سچا ارادہ کرتا ہے تو فوراً فطرت کي مطابقت اور اللہ کی نصرت اس کا ساتھ دینے لگتی ہے، اس کو اپنی فطرت کی مبہم پکار کا متعین جواب ملنا شروع ہوجاتاہے۔
ایک آدمی کے اندر سچی طلب کا جاگنا عالَم ظاہر کے پیچھے عالم باطن کو دیکھنے کی کوشش کرنا ہے۔ یہ تلاش جب یافت کے مرحلہ میں پہنچتی ہے تو وہ ایمان بالغیب بن جاتی ہے۔ وہی چیز جو ابتدائی مرحلہ میںایک برتر حقیقت کے آگے اپنے کو ڈال دینے کی بے قراری کا نام ہوتا ہے وہ بعد کے مرحلہ میںاللہ کا نمازی بننے کی صورت میں ڈھل جاتي ہے۔ وہی جذبہ جو ابتداء ًاپنے کو خیر اعلیٰ کے لیے وقف کردینے کے ہم معنی ہوتا ہے، وہ بعد کے مرحلہ میں اللہ کی راہ میںاپنے اثاثہ کو خرچ کرنے کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ وہی کھوج جو زندگی کے ہنگاموں کے آگے اس کا آخری انجام معلوم کرنے کی صورت میں کسی کے اندر ابھرتی ہے وہ آخرت پر یقین کی صورت میں اپنے سوال کا جواب پالیتی ہے۔
سچائی کو پانا گویا اپنے شعو ر کو حقیقت اعلیٰ کے ہم سطح کرلینا ہے۔ جو لوگ، اس طرح حق کو پالیں وہ ہر قسم کی نفسیاتی گرہوں سے آزاد ہوجاتے ہیں۔ وہ سچائی کو اس کے بے آمیز روپ میں دیکھنے لگتے ہیں۔ اس لیے سچائی جہاں بھی ہو اور جس بندۂ خدا کی زبان سے اس کا اعلان کیا جارہا ہو وہ فوراً اس کو پہچان لیتے ہیں اور اس پر لبیک کہتے ہیں۔ کوئی جمود، کوئی تقلید اور کوئی تعصباتی دیوار ان کے لیے اعترافِ حق میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ جن لوگوں کے اندریہ خصوصیات ہوں وہ اللہ کے سایہ میں آجاتے ہیں۔ اللہ کا بنایا ہوا نظام ان کو قبول کرلیتا ہے ان کو دنیا میں اس سچے راستہ پر چلنے کی توفیق مل جاتی ہے جس کی آخری منزل یہ ہے کہ آدمی آخرت کی ابدی نعمتوں میں داخل ہوجائے۔
حق کو وہی پاسکتا ہے جو اس کا ڈھونڈھنے والا ہے اور جو ڈھونڈنے والا ہے وہ ضرور اس کو پاتا ہے۔ یہاں ڈھونڈنے اور پانے کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں۔
Connections
- Previous: (Start of Surah)
- Next: 2_2
- Thematic: (add links here)