Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَإِنَّمَا يَسَّرۡنَٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ ٱلۡمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِۦ قَوۡمٗا لُّدّٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
پس اے محمدؐ، اِس کلام کو ہم نے آسان کر کے تمہاری زبان میں اسی لیے نازل کیا ہے کہ تم پرہیز گاروں کو خوشخبری دے دو اور ہٹ دھرم لوگوں کو ڈرا دو
English (Sahih International)
So, [O Muhammad], We have only made Qur’an easy in the Arabic language that you may give good tidings thereby to the righteous and warn thereby a hostile people
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 97 فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰہُ بِلِسَانِکَ ”قرآن کی زبان سہل ممتنع کا خوبصورت نمونہ ہے۔ عام قرآنی عبارت سلیس اور آسان عربی زبان میں ہے۔ اس میں ثقیل اور مشکل الفاظ شاذ ہی کہیں نظر آتے ہیں۔ لِتُبَشِّرَ بِہِ الْمُتَّقِیْنَ وَتُنْذِرَ بِہٖ قَوْمًا لُّدًّا ”یعنی آپ ﷺ کی دعوت کا ذریعہ اور وسیلہ ‘ آپ ﷺ کی تعلیمات کا مرکز و محور اور آپ ﷺ کا آلۂ انقلاب یہی قرآن ہے۔ آپ ﷺ اسی کے ذریعے سے وعظ و تذکیر کا فریضہ انجام دیں اور اسی کی مدد سے انذار وتبشیر کا حق ادا کریں : فَذَکِّرْ بالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ قٓ ”تو آپ ﷺ نصیحت کرتے رہیں قرآن کے ساتھ ہر اس شخص کو جو ڈرتا ہے میری وعید سے“۔ قرآن ایک مؤثر اور جامع وعظ بھی ہے اور تزکیہ نفس کے لیے شافی و کافی دوا بھی۔ اس حقیقت کا اعلان سورة یونس میں اس طرح کیا گیا ہے : یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ قَدْجَآءَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِلا وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ”اے لوگو ! آگئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور تمہارے سینوں کے روگ کی شفاء اور ہدایت ‘ اور اہل ایمان کے حق میں بہت بڑی رحمت“۔ اور سورة بنی اسرائیل کی آیت 82 میں یہی مضمون ان الفاظ میں بیان ہوا ہے : وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ہُوَشِفَآءٌ وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ”اور ہم نازل کرتے ہیں قرآن سے وہ چیز جو شفاء اور رحمت ہے مومنین کے لیے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 97 and 98.
خدا کی کتاب انسان کی قابلِ فہم زبان میں ہے۔ اسی کے ساتھ اس کے مضامین میں ان تمام پہلوؤں کی پوری رعایت موجود ہے جو کسی کتاب کو اس قابل بناتے ہیں کہ اس سے رہنمائی لي جا سکے۔ مگر ان سب کے باوجود قرآن انھیں لوگوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنتا ہے جو سنجیدہ ہوں اور جن کو یہ کھٹک ہو کہ وہ حق اور ناحق کو جانیں۔ وہ ناحق سے بچیں اور حق کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ جو لوگ سنجیدگی اور طلب سے خالی ہوں وہ قرآن کی تعلیمات کو سن کر صرف بے معنی بحثیں کریں گے، وہ اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکتے۔
جو لوگ دعوتِ حق کے مخالف بن کر کھڑے ہوتے ہیں وہ ہمیشہ اس غلط فہمی میں رہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے ان کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ ان کے گرد و پیش مخالفینِ حق کی تباہی کے واقعات موجود ہوتے ہیں مگر وہ ان سے عبرت نہیںلیتے۔ وہ آخر وقت تک یہی سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہوا وہ صرف دوسروں کے لیے تھا۔ان کے اپنے ساتھ کچھ ہونے والا نہیں۔
مگر اللہ کے قانون میں کوئی استثناء نہیں۔ یہاں ہر آدمی کے ساتھ وہی ہونے والا ہے جو دوسرے کے ساتھ ہوا، اچھوں کے لیے اچھا اور بروں کے لیے برا۔