Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
إِن كُلُّ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ إِلَّآ ءَاتِي ٱلرَّحۡمَٰنِ عَبۡدٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
زمین اور آسمان کے اندر جو بھی ہیں سب اس کے حضور بندوں کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں
English (Sahih International)
There is no one in the heavens and earth but that he comes to the Most Merciful as a servant
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 93 اِنْ کُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًا۔ ”ہر انسان ‘ کسے باشد ! اللہ تعالیٰ کی عدالت میں ایک مطیع فرمان بندے کی حیثیت سے پیش ہوگا۔ حضور ﷺ بھی ایک بندے کی حیثیت میں اللہ کے حضور حاضر ہوں گے۔ ہم آپ ﷺ کو عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہ کہتے اور مانتے ہیں۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے : لِوَاءُ الْحَمَدُ بِیَدِیْ کہ اس روز میدان حشر میں حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا۔ حضور ﷺ اللہ کی عدالت میں کھڑے ہو کر اس کی حمد بیان کریں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس روز میں اللہ کی جو حمد بیان کروں گا وہ آج بیان نہیں کرسکتا۔ چناچہ معلوم ہوا کہ اس روز ہر کوئی اللہ کے حضور اللہ کا بندہ بن کر حاضر ہوگا۔ اس میں کسی کو کوئی استثناء حاصل نہیں ہوگا۔ چناچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے یہ سوال کیا جائے گا : یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ءَ اَنْتَ قُلْتَ للنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰہَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط المائدۃ : 116 ”اے مریم کے بیٹے عیسیٰ ! کیا تم نے کہا تھا لوگوں سے کہ مجھے اور میری ماں کو بھی معبود بنا لینا ‘ اللہ کے سوا ؟“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 93 to 96.
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو لوگ بے آمیزحق کو لے کر اٹھتے ہیں وہ عوام کے نزدیک مبغوض ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ملاوٹی سچائی پر قائم ہونے والے لوگ بے ملاوٹ والی سچائی کے علم بردار کو وحشت کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔
مگر یہ صرف موجودہ دنیا کا معاملہ ہے۔ آخرت کا معاملہ اس کے بالکل مختلف ہوگا۔ وہاں کا سارا ماحول انھیں لوگوں کے ساتھ ہوگا جو بے آمیز حق پر اپنے آپ کو کھڑا کریں۔ آخرت کی دنیا میں عزت اور مقبولیت تمام تر ان اشخاص کے حصہ میں آئے گی جنھوںنے موجودہ دنیا کی عزت ومقبولیت سے بے پروا ہو کر اپنے آپ کو بے آمیز سچائی کے ساتھ وابستہ کیا تھا۔
ملاوٹی سچائی کی دنیا میں ملاوٹی سچائی پر کھڑا ہونے والا عزت پاتا ہے۔ اسی طرح بے آمیز سچائی کی دنیا میں اس کو عزت ملے گی جو بے آمیز سچائی کی زمین پر کھڑا ہوا تھا۔