Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
أَلَمۡ تَرَ أَنَّآ أَرۡسَلۡنَا ٱلشَّيَٰطِينَ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ تَؤُزُّهُمۡ أَزّٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ ہم نے اِن منکرین حق پر شیاطین چھوڑ رکھے ہیں جو اِنہیں خُوب خُوب (مخالفتِ حق پر) اکسا رہے ہیں؟
English (Sahih International)
Do you not see that We have sent the devils upon the disbelievers, inciting them to [evil] with [constant] incitement
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 83 اَلَمْ تَرَ اَ نَّآ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ تَؤُزُّہُمْ اَزًّا ”چونکہ ایسے لوگ خود شیاطین کی رفاقت اختیار کرتے ہیں اس لیے ہم شیاطین کو ان پر مستقل طور پر مسلط کردیتے ہیں تاکہ وہ انہیں گناہوں اور سرکشی پر مسلسل ابھارتے رہیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 83 to 87.
آدمی کے سامنے حق اپنی واضح صورت میں آئے مگر وہ اس کو نظر انداز کردے تو ایسا عمل شیطان کو اپنے اندر راہ دینے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کے بعد آدمی کا ذہن بالکل مخالف سمت میں چل پڑتاہے۔ اب ہر دلیل اس کے ذہن میں جاکر الٹ جاتی ہے۔ خدا کی نشانیاں اس کے سامنے آتی ہیں۔ مگر وہ ان کی خود ساختہ توجیہہ کرکے ان کو اپنی سرکشی کی غذا بنا لیتاہے۔
جو شخص جھوٹے سہاروں کو اپنا سہارا سمجھ لے وہ ہمیشہ اسی قسم کی نادانی میں مبتلا ہوجاتاہے۔ مگر جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ صرف اللہ کو اپنا سہارا سمجھتے ہیں۔ اللہ کا ڈر ان کی نظر میں ان تمام ہستیوں کو حذف کردیتاہے جن کو جھوٹا سہارا بنا کر لوگ گمراہ ہوتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میںاللہ کے باعزت مہمان بنائے جائیںگے۔