Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَيَزِيدُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ٱهۡتَدَوۡاْ هُدٗىۗ وَٱلۡبَٰقِيَٰتُ ٱلصَّـٰلِحَٰتُ خَيۡرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابٗا وَخَيۡرٞ مَّرَدًّا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اس کے برعکس جو لوگ راہِ راست اختیار کرتے ہیں اللہ ان کو راست روی میں ترقی عطا فرماتا ہے اور باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک جزا اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں
English (Sahih International)
And Allah increases those who were guided, in guidance, and the enduring good deeds are better to your Lord for reward and better for recourse
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
وَالْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّخَیْرٌ مَّرَدًّا ”یہ مال و دولت دنیا سب یہیں کی چیزیں ہیں اور یہیں رہ جائیں گی۔ بقا اور دوام اگر کسی چیز کو ہے تو وہ نیک اعمال ہیں۔ انسان کے ساتھ عالم آخرت میں بھی نیک اعمال ہی جائیں گے۔ یہ بدلے کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں اور اس اعتبار سے بھی کہ بالآخر ہر کسی نے لوٹ کر اپنے انہی اعمال کے پاس ہی جانا ہے۔ جب کوئی نیک شخص جنت میں پہنچے گا تو اپنے نیک اعمال کو جنت کی نعمتوں کی شکل میں اپنا منتظر پائے گا۔ وہاں اسے بتایا جائے گا کہ یہ نعمتیں دراصل تمہارے وہ نیک اعمال ہیں جو تم نے دنیا میں سر انجام دیے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مہربانی سے انہوں نے جنت کی ان نعمتوں کی شکل اختیار کرلی ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
ہدایت یاب ہونا یہ ہے کہ آدمی کا شعور صحیح رخ پر جاگ اٹھے۔ ایسے آدمی کے سامنے کوئی صورتِ حال آتی ہے تو وہ اس کی صحیح توجیہہ کرکے اس کو اپنی غذا بنا لیتاہے۔ اس طرح اس کی ہدایت میں یقین اور کیفیت کے اعتبار سے برابر اضافہ ہوتا رہتاہے۔ اس کی ہدایت جامد چٹان کی طرح نہیں ہوتی بلکہ زندہ درخت کی مانند ہوتی ہے جو برابر بڑھتا چلا جائے۔
جس طرح دنیا کے پیشِ نظر عمل کرنے والا برابر ترقی کرتا رہتا ہے، اسی طرح آخرت کو سامنے رکھ کر عمل کرنے والے کا عمل بھی مسلسل اضافہ پذیر ہے۔ یہ اضافہ پذیری چونکہ آخرت میں ذخیرہ ہورہی ہے۔ اس لیے وہ دنیا میں نظر نہیں آتی۔ مگر قیامت جب پردہ پھاڑ دے گی تو ہر آدمی دیکھ لے گا کہ ہدایت پانے والے کی ہدایت کس طرح بڑھ رہی تھی اور اسی کے ساتھ اس کا عمل بھی۔