Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 19:74 Prev 19:72


Arabic

وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٖ قَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَيُّ ٱلۡفَرِيقَيۡنِ خَيۡرٞ مَّقَامٗا وَأَحۡسَنُ نَدِيّٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اِن لوگوں کو جب ہماری کھُلی کھُلی آیات سنائی جاتی ہیں تو انکار کرنے والے ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں “بتاؤ ہم دونوں گروہوں میں سے کون بہتر حالت میں ہے اور کس کی مجلسیں زیادہ شاندار ہیں؟


English (Sahih International)

And when Our verses are recited to them as clear evidences, those who disbelieve say to those who believe, “Which of [our] two parties is best in position and best in association


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 73 وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓالا اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّاَحْسَنُ نَدِیًّا ”کفار مکہ مسلمانوں کو مخاطب کر کے تضحیک و استہزاء کے انداز میں سوال کرتے تھے کہ ذرا دیکھو تو سہی مجلسی شان و شوکت اور معاشرتی مقام و مرتبہ کے اعتبار سے ہم دونوں گروہوں میں سے کون ساگروہ بہتر ہے۔ ایک طرف محمد ﷺ چند فقراء و مساکین کو لے کر بیٹھے ہیں تو دوسری طرف ابو جہل اور ولید بن مغیرہ کی چوپالوں میں امراء و رؤساء کی چہل پہل ہے۔ ان دونوں گروہوں کی حیثیت و اہمیت کا بھلا آپس میں کیا تقابل اور موازنہ ! کہاں فرش خاک پر بیٹھے بلال ‘ ّ خباب ‘ ابو فکیہہ ‘ عمار اور یاسر رض جیسے ُ مفلس و قلاش اور غلام ‘ اور کہاں شاہانہ محفلوں میں سرداران قریش کی سج دھج اور شان و شوکت ! یہ وہی انداز ہے جو سورة الکہف میں دو افراد کے مکالمے کے دوران دیکھنے میں آتا ہے۔ وہاں بھی ایک دولت مند متکبر شخص نے اللہ کے بندے کو مخاطب کر کے بڑے طمطراق سے کہا تھا : اَنَا اَکْثَرُ مِنْکَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا ”میں تم سے بہت زیادہ ہوں مال میں اور بہت بڑھا ہوا ہوں نفری میں !“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 73 and 74.

جو لوگ حق ناحق کی بحث میں نہ پڑیں، جو آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی مصلحتوں کو اہمیت دیں، جو خدا کو خوش کرنے سے زیادہ عوام کو خوش کرنے کا اہتمام کرتے ہوں۔ ایسے لوگ ہمیشہ زیادہ کامیاب رہتے ہیں۔ ان کے گرد زیادہ رونق اور شان جمع ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف جو لوگ ہر معاملہ میں یہ دیکھیں کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ جو دنیا کی مصلحتوں کو نظر انداز کریں اور آخرت کی مصلحتوں کو ترجیح دیں۔جو عوامی رجحان سے زیادہ خدا کا لحاظ کریں۔ ایسے لوگ اکثر ظاہری شان وشوکت والی چیزوں سے محروم رہتے ہیں۔

یہ فرق بہت سے لوگوں کے لیے غلط فہمی کا سبب بن جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو لوگ دنیوی اعتبار سے بہتر ہیں وہ خدا کے پسندیدہ ہیں اور جو لوگ دنیوی اعتبار سے بہترنہیں وہ خدا کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں۔ مگر یہ معیار سراسر غلط ہے۔ اور ماضی کی تاریخ اس کی تردید کرنے کے لیے کافی ہے۔ کتنے پر فخر سرزمین کے نیچے دفن ہوگئے۔ کتنے محل ہیں جوآج کھنڈر کے سوا کسی اور صورت میں دیکھنے والوں کو نظر نہیں آتے۔


Connections

  • Previous: 19_72
  • Next: 19_74
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes