Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يَٰزَكَرِيَّآ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَٰمٍ ٱسۡمُهُۥ يَحۡيَىٰ لَمۡ نَجۡعَل لَّهُۥ مِن قَبۡلُ سَمِيّٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
(جواب دیا گیا) “اے زکریاؑ، ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰؑ ہو گا ہم نے اِس نام کا کوئی آدمی اس سے پہلے پیدا نہیں کیا
English (Sahih International)
[He was told], “O Zechariah, indeed We give you good tidings of a boy whose name will be John. We have not assigned to any before [this] name
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 7 یٰزَکَرِیَّآ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمِ نِ اسْمُہٗ یَحْیٰیلا لَمْ نَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّااس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس کا کوئی نظیر نہیں بنایا ‘ یعنی اس جیسی صفات کسی میں پیدا نہیں کیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 7 and 8.
یہ دعا بیٹے کی صورت میں قبول ہوئی۔ ایک ایسا بیٹا جیسا بیٹا عام طورپر لوگوں کے یہاں پیدا نہیں ہوتا۔ ایک شخص جو آخری حد تک بوڑھا ہوچکا ہو ا ور جس کی بیوی پوری عمر تک بانجھ رہی ہو۔ اس کے یہاں بچہ پیدا ہونا یقیناً ایک انتہائی غیر معمولی بات ہے۔ اس بنا پر حضرت زکریا کو اس خبر پر خوشی کے ساتھ تعجب بھی ہوا۔ ملنے والی نعمت کے غیر متوقع ہونے کا احساس ان کی زبان سے ان الفاظ میں نکل پڑا کہ میرے یہاںکیسے بچہ پیدا ہوگا جب کہ میں اور میری بیوی دونوںاس اعتبار سے از کار رفتہ ہوچکے ہیں۔