Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَيَقُولُ ٱلۡإِنسَٰنُ أَءِذَا مَا مِتُّ لَسَوۡفَ أُخۡرَجُ حَيًّا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
انسان کہتا ہے کیا واقعی جب میں مر چکوں گا تو پھر زندہ کر کے نکال لایا جاؤں گا؟
English (Sahih International)
And the disbeliever says, “When I have died, am I going to be brought forth alive
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 66 وَیَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَ اِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا ”یہ ان لوگوں کا قول نقل ہوا ہے جو بعث بعد الموت کے منکر تھے۔ مشرکین مکہ کے عقائد کے بارے میں پہلے بھی کئی بار بتایا جا چکا ہے کہ ان میں سے اکثر وبیشتر آخرت کے قائل تھے ‘ اسی لیے تو بتوں کے بارے میں ان کے اس عقیدے کا قرآن میں ذکر ہوا ہے : وَیَقُوْلُوْنَ ہٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ ط یونس : 18 ”اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہوں گے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 66 to 68.
عرب کے لوگ جو قرآن کے پہلے مخاطب تھے وہ زندگی بعد موت کو مانتے تھے۔ مگر یہ ماننا صرف رسمی ماننا تھا، وہ حقیقی ماننا نہ تھا۔ قرآن میں آخرت سے متعلق جتنے الفاظ ہیں وہ سب پہلے سے ان کی زبان میں موجود تھے۔ مگر ان کی زندگی پر اس ماننے کا کوئی اثر نہ تھا۔ ان کی عملی زندگی ایسی تھی گویا کہ وہ زبان حال سے کہہ رہے ہوں کہ— زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے۔ مرنے کے بعد کون ہم کو اٹھائے گا اور کون ہمارا حساب لے گا۔
مگر یہ غفلت یا انکار صرف اس لیے ہے کہ آدمی سنجیدگی کے ساتھ غور نہیں کرتا۔ اگر وہ غور کرے تو اس کی پہلی پیدائش ہی اس کے لیے اس کی دوسری پیدائش کی دلیل بن جائے۔
یہاں ’’شیاطین‘‘ سے مراد برے لیڈر ہیں۔ یہ لیڈر پر فریب الفاظ بول کر عوام کو بہکاتے ہیں۔ اس اعتبار سے وہ وہی کام کرتے ہیں جو شیطان کرتاہے۔ موجودہ دنیا میں یہ لیڈر عظمت کے مقام پر کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس لیے لوگ ان کو نظر انداز نہیں کرپاتے۔ مگر آخرت میں ان کی عظمت ختم ہوجائے گی۔ وہاں یہ بڑے لوگ بھی اسی طرح ذلت کے گڑھے میں ڈال دئے جائیں گے جس طرح ان کے چھوٹے لوگ۔