Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمۡرِ رَبِّكَۖ لَهُۥ مَا بَيۡنَ أَيۡدِينَا وَمَا خَلۡفَنَا وَمَا بَيۡنَ ذَٰلِكَۚ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيّٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے محمدؐ، ہم تمہارے رب کے حکم کے بغیر نہیں اُترا کرتے جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے ہر چیز کا مالک وہی ہے اور تمہارا رب بھولنے والا نہیں ہے
English (Sahih International)
[Gabriel said], “And we [angels] descend not except by the order of your Lord. To Him belongs that before us and that behind us and what is in between. And never is your Lord forgetful
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 64 وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ ج ”یہاں سے ایک بہت اہم مضمون کا آغاز ہو رہا ہے اور یہ بات اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو قرآن کے ساتھ جو والہانہ محبت تھی ‘ جو عشق تھا ‘ اس کا جو شغف اور شوق تھا ‘ اس کی بنا پر وحی میں وقفہ آپ ﷺ پر بہت شاق گزرتا تھا۔ آپ ﷺ کی خواہش ہوتی تھی کہ وحی جلد از جلد آتی رہے تاکہ اس سے آپ ﷺ اپنے وجودُِ پر نور کو مزید منور کرتے رہیں۔ اس حوالے سے آپ ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام سے شکوہ کیا کہ آپ کی آمد وقفے وقفے سے ہوتی ہے ‘ ہم انتظار کرتے رہتے ہیں۔ آپ ﷺ کے اس شکوہ کا یہاں جبرائیل کی طرف سے جواب دیا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ہم اپنی مرضی سے نازل نہیں ہوتے ‘ ہم تو آپ کے رب کے حکم کے پابند ہیں۔ اس کا اذن ہوتا ہے تو ہم نازل ہوتے ہیں۔لَہٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَیْنَ ذٰلِکَ ج ”ان الفاظ میں بہت گہرائی ہے۔ آگے اور پیچھے کے درمیان میں کون ہے ؟ وہی جو یہاں متکلم ہیں ‘ یعنی خود جبرائیل ! مراد یہ کہ میں بالکلیہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوں اور فرشتے کی یہی شان ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے احکام سے ِ سرمو سرتابی نہیں کرتے ‘ جیسا کہ سورة التحریم میں فرمایا گیا ہے : لَا یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ ”وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جس کا وہ انہیں حکم دے ‘ اور وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔“وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا ”اے نبی ﷺ ! ہم آپ کے رب کی اجازت اور مشیت سے وحی لے کر نازل ہوتے ہیں۔ اس میں جو تاخیر ہوتی ہے وہ کسی نسیان کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ اس کی مرضی اور حکمت سے ہوتی ہے۔ سورة الفرقان میں اس حکمت کی وضاحت ان الفاظ میں بیان فرمائی گئی ہے : کَذٰلِکَج لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ وَرَتَّلْنٰہُ تَرْتِیْلًا ”اسی طرح ہم نے اسے نازل کیا تاکہ مضبوط کردیں اس کے ساتھ آپ ﷺ کا دل اور اسی لیے ہم نے اسے پڑھ کر سنایا ہے تھوڑا تھوڑا کر کے“۔ اور سورة بنی اسرائیل میں یہ مضمون یوں بیان ہوا ہے : وَقُرْاٰناً فَرَقْنٰہُ لِتَقْرَاَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکْثٍ وَّنَزَّلْنٰہُ تَنْزِیْلاً ”اور قرآن کو ہم نے ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا ہے ‘ تاکہ آپ ﷺ اسے لوگوں کو پڑھ کر سنائیں ٹھہر ٹھہر کر ‘ اور ہم نے اس کو اتارا ہے تھوڑا تھوڑا کر کے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 64 and 65.
اسلامی دعوت جب مخالفت کے دور میں ہو تو یہ داعی کے لیے بڑا سخت مرحلہ ہوتاہے۔ داعی ہر روز چاہتا ہے کہ موجودہ کیفیت کو ختم کرنے کے لیے کوئی نیا اقدام کیا جائے۔ جب کہ خدا کا حکم یہ ہوتا ہے کہ صبر اور انتظار کا طریقہ اختیار کرو۔
ایسی ہی کیفیت ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آئی۔ حالات کی شدت کے پیش نظر آپ خدا کی طرف سے مزید ہدایت کے منتظر تھے۔ مگر ایک روایت کے مطابق تقریباً چالیس دن تک جبریل نہیں آئے۔ پھر جب وہ آئے تو آپ نے کہا کہ اے جبریل ، اتنی دیر کیوں کردی۔ انھوںنے جواب دیا کہ ہم خدا کی مرضی کے پابند ہیں۔ جب خدا کی طرف سے کوئی ہدایت ملتی ہے تو آتے ہیں اور جب ہدایت نہیں ملتی تو نہیںآتے۔
یہ واقعہ بیان کرکے یہاں صبر کی تلقین کی گئی ہے۔ جو صورت حال جاری ہے اس کوخدا پوری طرح دیکھ رہاہے۔ اس کے باوجود اگر اس کی طرف سے نئی ہدایت نہیں آرہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت یہی مطلوب ہے کہ اس صورت حال کو برداشت کیاجائے۔ اگر حکمت کا تقاضا کچھ اور ہوتا تو یقیناً کوئی اور حکم آتا۔ خدا سے زیادہ کوئی جاننے والا نہیں اس لیے خدا سے بہتر کسی کی رہنمائی بھی نہیں ہوسکتی۔
’’رکنے‘‘ والے حالات میں ’’اقدام‘‘ کی آیت تلاش کرنا صحیح نہیں۔ ایسا کرنا گویا اس حکم کو قبل از وقت اتارنے کی کوشش کرناہے، جو ابھی آدمی کے لیے نہیں اترا۔