Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنۡ ءَالِهَتِي يَـٰٓإِبۡرَٰهِيمُۖ لَئِن لَّمۡ تَنتَهِ لَأَرۡجُمَنَّكَۖ وَٱهۡجُرۡنِي مَلِيّٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
باپ نے کہا “ابراہیمؑ، کیا تو میرے معبُودوں سے پھر گیا ہے؟ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے الگ ہو جا
English (Sahih International)
[His father] said, “Have you no desire for my gods, O Abraham? If you do not desist, I will surely stone you, so avoid me a prolonged time
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 46 قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِہَتِیْ یٰٓاِبْرٰہِیْمُ ج ”ایک طرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کا لجاجت بھرا طرز تخاطب تھا تو دوسری طرف جواب میں باپ کا یہ فرعونی انداز بھی ملاحظہ ہو !لَءِنْ لَّمْ تَنْتَہِ لَاَرْجُمَنَّکَ وَاہْجُرْنِیْ مَلِیًّا ”تمہاری یہ باتیں میری برداشت سے باہر ہیں ‘ لہٰذا تم فوری طور پر میری نگاہوں سے دور ہوجاؤ !
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 46 to 48.
حضرت ابراہیم نے جن بتوں پر تنقید کی، وہ سادہ معنوں میں محض پتھر کے ٹکڑے نہ تھے بلکہ وہ ان ہستیوں کے نمائندے تھے جن کی طلسماتی عظمت ماضی کی طویل روایات کے نتیجہ میں لوگوں کے ذہنوں پر قائم ہوچکی تھی۔ اس تقابل میں ’’نوجوان ابراہیم ‘‘ ایک معمولی شخص نظر آئے اور عراق کے بت عظمتوں کے پہاڑ دکھائی دئے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابرہیم کے والدنے حقارت کے ساتھ ان کی نصیحت کو نظر انداز کردیا۔
حق کی دعوت ایک مقام پر شروع کی جائے اور پھر وہ اس مرحلہ میں پہنچ جائے کہ لوگ اس کو اچھی طرح سمجھ چکے ہوں مگر وہ ماننے کے بجائے جارحیت پر اتر آئیں تو اس وقت داعی اپنے مقام عمل کو تبدیل کردیتاہے۔ اسی کا دوسرا نام ہجرت ہے۔ مقام عمل کی یہ تبدیلی کبھی قریب کے دائرہ میں ہوتی ہے اور کبھی دور کے دائرہ میں۔
دعوت کا عمل ایک خدائی عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جب بھی شروع ہوتاہے ربانی نفسیات کے ساتھ شروع ہوتاہے ۔ مدعو اگر داعی کے ساتھ ظلم وحقارت کا معاملہ کرے تب بھی داعی کے دل میں اس کے لیے نرم گوشہ موجود رہتاہے۔ اسی طرح داعی اگر اپنے ماحول میں بے یارومددگار ہوجائے تب بھی وہ مایوس نہیں ہوتا کیوں کہ اس کا اصل سہارا خدا ہوتاہے۔ وہ یقین رکھتا ہے کہ وہ بدستور اس کے ساتھ موجود ہے اور ہمیشہ موجود رہے گا۔