Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 19:28 Prev 19:26


Arabic

فَأَتَتۡ بِهِۦ قَوۡمَهَا تَحۡمِلُهُۥۖ قَالُواْ يَٰمَرۡيَمُ لَقَدۡ جِئۡتِ شَيۡـٔٗا فَرِيّٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

پھر وہ اس بچے کو لیے ہوئے اپنی قوم میں آئی لوگ کہنے لگے ” اے مریم، یہ تو تُو نے بڑا پاپ کر ڈالا


English (Sahih International)

Then she brought him to her people, carrying him. They said, “O Mary, you have certainly done a thing unprecedented


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 27 فَاَتَتْ بِہٖ قَوْمَہَا تَحْمِلُہٗ حضرت مریم بڑے حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے نومولود بچے کو اٹھائے ہوئے اپنی قوم کی طرف آگئیں۔ بچے کی گفتگو والا معجزہ دیکھ لینے کے بعد آپ کو تسلی تھی کہ وہ خود ہی لوگوں کے سوالات کے جواب دے گا۔ آیت 24 کے حوالے سے بچے کے کلام کرنے کا تذکرہ عام طور پر تفاسیر میں نہیں ملتا اور ”مِنْ تَحْتِھَا“ سے یہی سمجھا گیا ہے کہ اس موقع پر فرشتے ہی نے آپ کو پکارا تھا۔ بہرحال میری رائے یہ ہے کہ حضرت مریم کو اس وقت نیچے سے پکارنے والا آپ کا نومولود بیٹا تھا ‘ جس کی گفتگو سے آپ کو حوصلہ ملا اور آپ بچے کے ساتھ لوگوں کا سامنا کرنے پر آمادہ ہوئیں۔ واللہ اعلم !قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِءْتِ شَیْءًا فَرِیًّاان کو دیکھتے ہی لوگوں نے طرح طرح کی باتیں کرنا شروع کردیں کہ تم نے یہ کیا غضب کیا ! تمہاری گود میں یہ کس کا بچہ ہے ؟ یہ تم نے بہت بری حرکت کی ہے ‘ وغیرہ۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 27 and 28.

فرشتے کی بات سننے کے بعد حضرت مریم کے اندر اعتماد پیدا ہوگیا۔ وہ بچہ کو لے کر اپنے خاندان والوں میں واپس آئیں۔ ان کو اس حال میں دیکھ کر یہود کے تمام لوگ انھیں ملامت کرنے لگے۔ حضرت مریم نے وہی کیا جو فرشتہ نے انھیں بتایا تھا۔ انھوںنے خود خاموش رہتے ہوئے بچہ کی طرف اشارہ کردیا۔ مطلب یہ تھاکہ یہ لڑکا کوئی عام قسم کا لڑکا نہیں ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ تم اس سے کلام کرو، وہ گود کا بچہ ہونے کے باوجود تمھارے کلام کو سمجھے گا اور صاف زبان میں تمھارا جواب دے گا۔


Connections

  • Previous: 19_26
  • Next: 19_28
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes