Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَنَادَىٰهَا مِن تَحۡتِهَآ أَلَّا تَحۡزَنِي قَدۡ جَعَلَ رَبُّكِ تَحۡتَكِ سَرِيّٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
فرشتے نے پائنتی سے اس کو پکار کر کہا “غم نے کر تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ رواں کر دیا ہے
English (Sahih International)
But he called her from below her, “Do not grieve; your Lord has provided beneath you a stream
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 24 and 25.
آیت 24 فَنَادٰٹہَا مِنْ تَحْتِہَآ یہاں عام مفسرین کا خیال یہ ہے کہ جس فرشتے نے پہلے بشارت دی تھی اسی نے اب بھی انہیں آواز دی۔ مِنْ تَحْتِہَآ کا مفہوم یہی لیا گیا ہے کہ اس وقت حضرت مریم نسبتاً بلند جگہ پر ہوں گی اور وہ فرشتہ ذرا نشیب میں ہوگا۔ ویسے بھی وضع حمل کے موقع پر فرشتے کا آپ کے بالکل قریب رہنامناسب نہیں تھا۔ لیکن مِنْ تَحْتِہَا کی ایک قراءت مَنْ تَحْتَہَآ بھی ہے ‘ یعنی اسے پکارا اس نے جو اس کے نیچے تھا۔ اس ترجمے کے مطابق مفہوم یہ ہوگا کہ ولادت کے فوراً بعد بچہ بول پڑا اور میں یہاں اسی مفہوم کو ترجیح دیتا ہوں۔ اس لیے کہ اگر اس وقت بچے نے کلام نہ کیا ہوتا تو حضرت مریم کو کیسے یقین آتا کہ یہ بچہ لوگوں کے سوالات کا خود ہی جواب دے گا اور وہ بچے کو لے کر لوگوں کے سامنے آنے پر کیونکر تیار ہوجاتیں۔ بہر حال وہ جو نیچے تھا اس نے آپ کو پکار کر کہا :اَ لَّا تَحْزَنِیْ اگر یہ حضرت مسیح علیہ السلام یعنی نومولود ہی کا کلام ہے تو گویا آپ علیہ السلام اپنی والدہ کو تسلی دے رہے ہیں کہّ امی جان ! آپ بالکل پریشان نہ ہوں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
پاک با ز غیر شادی شدہ خاتون پر ایسے وقت میں جو کیفیت گزرے گی اس کی تصویر ان الفاظ میں ملتی ہے۔ کاش میں اس سے پہلے ختم ہو جاتی اورلوگوں کے حافظے میں میرا کوئی وجود نہ ہوتا۔