Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يَٰيَحۡيَىٰ خُذِ ٱلۡكِتَٰبَ بِقُوَّةٖۖ وَءَاتَيۡنَٰهُ ٱلۡحُكۡمَ صَبِيّٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے یحییٰؑ! کتاب الٰہی کو مضبوط تھام لے” ہم نے اُسے بچپن ہی میں “حکم” سے نوازا
English (Sahih International)
[Allah] said, “O John, take the Scripture with determination.” And We gave him judgement [while yet] a boy
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 12 and 13.
آیت 12 یٰیَحْیٰی خُذِ الْکِتٰبَ بِقُوَّۃٍ کتاب سے مراد یہاں زبور ‘ تورات اور دیگر صحائف ہیں جو اس وقت بنی اسرائیل کے درمیان موجود تھے۔وَاٰتَیْنٰہُ الْحُکْمَ صَبِیًّااب حضرت یحییٰ علیہ السلام کے خصوصی اوصاف بیان کیے جا رہے ہیں۔ یوں سمجھئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام John The Baptist and Jesus of Nazarat دونوں ایسی غیر معمولی شخصیات ہیں کہ ان جیسے اوصاف دوسرے انبیاء و رسل علیہ السلام میں بھی نہیں پائے گئے۔ چناچہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بچپن ہی میں حکمت عطا کردی گئی۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 12 to 15.
کہا جاتا ہےکہ حضرت یحییٰ جب چھوٹے تھے تو لڑکوں نے ایک بار انھیں کھیلنے کے ليے بلایا۔ انھوںنے انکار کردیا اور کہاکہ’’ ہم اس ليے نہیں بنائے گئے ہیں‘‘۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کو بچپن سے یہ شعور حاصل تھا کہ زندگی کو بامقصد ہونا چاہيے۔ اسی طرح ان کے اندر پیدائشی طورپر سوز و گداز موجود تھا۔ وہ نفسیاتی گرہوں سے آزاد تھے۔ وہ اپنے والدین کے حقوق ادا کرنے والے تھے ۔ وہ سرکشی اور نافرمانی سے بالکل خالی تھے۔
یہی وہ اوصاف ہیں جو آدمی کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ کسی حال میں خدا کی کتاب سے نہ ہٹے۔ اور انہیں اوصاف والا آدمی وہ ہے جس پر دنیا میں بھی خدا کی رحمت نازل ہوتی ہے اور آخرت میں بھی خدا کی رحمت۔