Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 18:100 Prev 18:98


Arabic

۞وَتَرَكۡنَا بَعۡضَهُمۡ يَوۡمَئِذٖ يَمُوجُ فِي بَعۡضٖۖ وَنُفِخَ فِي ٱلصُّورِ فَجَمَعۡنَٰهُمۡ جَمۡعٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور اُس روز ہم لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ (سمندر کی موجوں کی طرح) ایک دُوسرے سے گتھم گتھا ہوں اور صُور پھُونکا جائے گا اور ہم سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع کریں گے


English (Sahih International)

And We will leave them that day surging over each other, and [then] the Horn will be blown, and We will assemble them in [one] assembly


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 99 وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ يَّمُوْجُ فِيْ بَعْضٍ یہ قیامت سے پہلے رونما ہونے والے جنگی واقعات کی طرف اشارہ ہے۔ قرب قیامت کے واقعات میں سے ایک اہم واقعہ یاجوج و ماجوج کا ظہور بھی ہے۔ احادیث میں ان کے بارے میں ایسی خبریں ہیں کہ وہ دریاؤں اور سمندروں کا پانی پی جائیں گے اور ہرچیز کو ہڑپ کر جائیں گے۔ عین ممکن ہے وہ آدم خور بھی ہوں اور ضرورت پڑنے پر انسانوں کو بھی کھا جائیں۔ جیسے آج ہم چینی قوم کو دیکھتے ہیں کہ وہ سانپ بچھو کتا بلی ہرچیز کو ہڑپ کر جاتے ہیں۔ کثرت آبادی کے لحاظ سے بھی یاجوج و ماجوج کی بیشتر علامات کا تطابق چینی قوم پر ہوتا نظر آتا ہے۔یاجوج و ماجوج کی یلغار کا نقشہ سورة الانبیاء میں اس طرح کھینچا گیا ہے : وَہُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ ”اور وہ ہر پہاڑ کی ڈھلوان سے اترتے ہوئے نظر آئیں گے“۔ 1962 ء میں چین بھارت جنگ کے دوران اخباروں نے چینی افواج کے حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے بھی کچھ ایسی ہی تصویر کشی کی تھی : ” Waves after waves of Chinese soldiers were coming down the slopes.” بہرحال جس طرح یاجوج و ماجوج آج سے ڈھائی ہزار سال پہلے اپنے ملحقہ علاقوں کی مہذب آبادیوں کو تاخت و تاراج کرتے تھے ‘ اسی طرح قیامت سے پہلے ایک دفعہ پھر وہ دنیا میں تباہی مچائیں گے اور ان کا ظہور اپنی نوعیت کا ایک بہت اہم واقعہ ہوگا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 99 to 101.

قیامت آنے کے بعد موجودہ دنیا ایک اور دنیا بن جائے گی۔ اس وقت غالباً ایسا ہوگا کہ دریاؤں اور پہاڑوں کی موجودہ حد بندیاں توڑ کر ختم کر دی جائیں گی۔ انسانوں کا ایک ہجوم ہوگا جو ایک دوسرے سے اسی طرح ٹکرائے گا جس طرح سمندر میں موجیں ٹکراتی ہیں۔

آج لوگوں کو عقل کی آنکھ سے جہنم دکھائی جارہی ہے تو وہ ان کو نظر نہیں آتی۔ قیامت میں لوگوں کو پیشانی کی آنکھ سے جہنم دکھائی جائے گی۔ اس وقت ہر آدمی دیکھ لے گا۔ مگر یہ دیکھنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوںکہ نصیحت کے ذریعہ جس نے اپنی آنکھ کا پردہ ہٹایا وہی پردہ ہٹانے والا ہے۔ ورنہ قیامت کے دن پردہ ہٹایا جانا تو صرف اس لیے ہوگا کہ سرکشی کرنے الوں کو ان کے آخری انجام تک پہنچا دیا جائے۔


Connections

  • Previous: 18_98
  • Next: 18_100
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes