Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
ءَاتُونِي زُبَرَ ٱلۡحَدِيدِۖ حَتَّىٰٓ إِذَا سَاوَىٰ بَيۡنَ ٱلصَّدَفَيۡنِ قَالَ ٱنفُخُواْۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَعَلَهُۥ نَارٗا قَالَ ءَاتُونِيٓ أُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
مجھے لوہے کی چادریں لا کر دو” آخر جب دونوں پہاڑوں کے درمیانی خلا کو اس نے پاٹ دیا تو لوگوں سے کہا کہ اب آگ دہکاؤ حتیٰ کہ جب (یہ آہنی دیوار) بالکل آگ کی طرح سُرخ ہو گئی تو اس نے کہا “لاؤ، اب میں اس پر پگھلا ہوا تانبا انڈیلوں گا
English (Sahih International)
Bring me sheets of iron” - until, when he had leveled [them] between the two mountain walls, he said, “Blow [with bellows],” until when he had made it [like] fire, he said, “Bring me, that I may pour over it molten copper
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 96 and 97.
حَتّٰى اِذَا سَاوٰى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ جب لوہے کے تختوں کو جوڑ کر انہوں نے دونوں پہاڑوں کے درمیانی درّے میں دیوار کھڑی کردی تو : قَالَ انْفُخُوْااس نے بڑے پیمانے پر آگ جلا کر ان تختوں کو گرم کرنے کا حکم دیا۔حَتّٰى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًاجب لوہے کے وہ تختے گرم ہو کر سرخ ہوگئے تو :قَالَ اٰتُوْنِيْٓ اُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًااور یوں ذوالقرنین نے لوہے کے تختوں اور پگھلے ہوئے تانبے کے ذریعے سے ایک انتہائی مضبوط دیوار بنا دی۔ اس دیوار کے آثار بحیرۂ کیسپین کے مغربی ساحل کے ساتھ ساتھ دار یال اور دربند کے درمیان اب بھی موجود ہیں۔ یہ دیوار پچاس میل لمبی انتیس فٹ اونچی اور دس فٹ چوڑی تھی۔ آج سے سینکڑوں سال پہلے لوہے اور تانبے کی اتنی بڑی مصر کے اسوان ڈیم سے بھی بڑی جسے اَسَدّ الاعلٰی کہا جاتا ہے دیوار تعمیر کرنا یقیناً ایک بہت بڑا کارنامہ تھا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 18:95.